چھ سال قبل باپ اور بیٹے کی تحویل میں موت کے کیس میں مدورائی کی عدالت کا فیصلہ ۔ تحویل میں بے تحاشہ اذیتیں دینے کا تھا الزام
مدورائی 6 اپریل ( سیاست نیوز ) ٹاملناڈو کے مدورائی کی ایک عدالت نے آج تاجر پی جئے راج اور اس کے فرزند جے بینکس کی تحویل میں ہوئی موت کے کیس میں 9 پولیس ملازمین کو سزائے موت سنائی ہے ۔ جئے راج اور اس کے فرزند جے بینکس کی موت تھوٹوکوڈی ضلع میں چھ سال قبل ہوئی تھی جس کے بعد ملک بھر میں برہمی کی لہر پیدا ہوئی تھی ۔ جن 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت سنائی گئی ہے ان میں انسپکٹر سریدھر ‘ سب انسپکٹران بالاکرشنن اور رگھو گنیش کے علاوہ پولیس اہلکار مروگن : سمادورائی ‘ متھو راجہ ‘ چیلہ دورائی ‘ تھامس فرانسیس اور ویلو موتھو کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ اختیارات کے بیجا استعمال کا معاملہ ہے اور ٹاملناڈو میں کئی دیانتدار پولیس ملازمین موجود ہیں اور عدالت کی اس رولنگ سے ملازمین پولیس میں کسی طرح کے خوف کی لہر پیدا نہیں ہوگی ۔ عدالت نے کہا کہ اس کیس میں باپ اور بیٹے کو برہنہ کیا گیا تھا اور ان کی بے تحاشہ پٹائی کی گئی تھی ۔ اس کے واضح اشارے دستیاب ہیں ۔ سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات کی تھی اور اس کیس کو انتہائی شاذ و نادر پیش آنے والا واقعہ قرار دیتے ہوئے ملزمین کو سزائے موت یا کسی ممکنہ پیرول کے بغیر سزائے عمرقید سنانے کی استدعا کی تھی ۔ استغاثہ کا استدلال یہ تھا کہ اس جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے اور اس کیس میں تین راست عینیش اہدین کے بیانات بھی لئے گئے ہیں جس سے سماج کا ضمیر بے چین ہو اٹھا تھا ۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کو واضح کرتے ہوئے سی بی آئی کا کہنا تھا کہ متاثرین کو ہتھیاروں کے ساتھ بے رحمانہ مار پیٹ کی گئی تھی اور انتہائی شدت کی سزا دی گئی تھی ۔ باپ اور بیٹے کی تحویل میں موت کا واقعہ 19 جون 2020 کو پیش آیا تھا ۔ جئے راج اور بینکس ایک موبائیل شاپ چلاتے تھے اور ان کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران مقررہ وقت سے زیادہ وقت تک دوکان کھلی رکھی تھی تاہم یہ الزام بعد میں جھوٹا ثابت ہوا تھا ۔ ان دونوں کو ستنا کولم پولیس اسٹیشن منتقل کرکے بعد میں عدالتی تحویل میں دیدیا گیا تھا ۔ اس کے اندرون چند دن دونوں کی موت واقع ہوگئی تھی ۔ رشتہ داروں نے الزام عائد کیا تھا کہ ان دونوں کو پولیس اسٹیشن میں رات بھر شدید مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ شدید زخمی ہوگئے تھے ۔ انہیں شدید جسمانی اذتیوں کے نشان بھی دستیاب ہوئے تھے ۔ سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات مدراس ہائیکورٹ کی ہدایت پر شروع کی تھی اور 10 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا ۔ ان تمام کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ تحقیقات کے دوران ایک خاتون کانسٹیبل نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان باپ اور بیٹے کو رات بھر مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ٹیبلوں اور لاٹھیوں پر خون کے نشان بھی تھے ۔ تحقیقات میں شواہد جمع کرنے میں سی بی آئی کو کافی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس کیس کی تحقیقات میں جملہ 100 عینی شاہدین کے بیانات لئے گئے تھے اور پانچ سال تک سماعت کے بعد آج ان پولیس اہلکاروں کو سزائے موت سنائی گئی ۔ H/K