ٹاپ آرڈر کو ذمہ داری لینی ہوگی

   

مبئی۔ لکھنؤ سوپر جائنٹس کے کپتان کے ایل راہول نے کہا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں مسلسل دوسری شکست کے بعد ان کے ٹاپ آرڈر بیٹرس کو زیادہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ اتوارکو لکھنؤ راجستھان رائلز سے 24 رنز سے ہارگیا۔ مقابلہ میں یہ پہلا موقع تھا جب لکھنؤ نے لگاتار دو میچ ہارے، جس سے ان کے ٹاپ دو میں جگہ بنانے کے امکانات خطرے میں پڑگئے۔لکھنؤ کو چہارشنبہ کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف اپنا میچ جیتنا ہوگا تاکہ وہ ٹاپ دو میں جگہ کی اپنی امیدوں کو زندہ رکھے۔اس موقع پر میں جھوٹ نہیں بولوں گا، ہاں، کچھ دباؤ ہے۔ راہول نے میچ کے بعد کی پریس کانفرنس میں کہا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس مقابلے میں کوئی بھی چیز آسانی سے نہیں آتی اورکوئی اسکور آسانی سے نہیں آتا ۔ ہمیں یہ سبق اچھی طرح سیکھنا چاہیے۔179 کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے لکھنؤ نے 29 رن پر تین وکٹ گنوا دیے جس سے مڈل آرڈر پر دباؤ بڑھ گیا۔ راہول نے مارکس سٹوئنس کو نیچے بھیجنے کی وجہ بھی بتائی۔ہم صورتحال کے مطابق اپنے کھلاڑیوں کا بہترین استعمال کرنا چاہتے ہیں اور مارکس ان کھلاڑیوں میں سے ایک ہے۔ وہ ایک جارحانہ بیٹر ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ آخری اوورز میں واقعی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہم نے اسے دیر سے بیٹنگ کے لیے بھیجا ہے۔راہول نے کہا لیکن دوسرے سرے سے کوئی اس کی حمایت کے لیے موجود ہونا چاہیے۔ ٹیم کو زیادہ ذمہ داری لینے اور اسٹوئنس یا جیسن (ہولڈر) جیسے کھلاڑیوں کے لیے ماحول تیار کرنے کے لیے ٹاپ آرڈر کی ضرورت ہے اور بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا۔راجستھان کی ٹیم لکھنؤ پر جیت کے ساتھ ٹاپ ٹو میں چلی گئی ہے۔ ان کے کسی بیٹر نے نصف سنچری نہیں بنائی لیکن اس کے باوجود وہ مضبوط اسکور بنانے میں کامیاب رہے۔رائلز کے کپتان سنجو سیمسن نے کہا یہ ہماری ٹیم کی خاصیت ہے۔ اگر آپ آج کی جیت پر نظر ڈالیں تو بیٹنگ کرنے والے ہر کھلاڑی نے 10-20 رنز بنائے جو اس کھیل میں اہم ہے۔