ممبئی ۔ ٹاپ آرڈر میں مسلسل تبدیلیوں کے منفی اثرات کے زیر اثرکولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کی ٹیم نے پیرکو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں راجستھان رائلز کے خلاف پانچ میچوں میں شکست کا سلسلہ توڑنے کی کوشش کریں گے۔ وینکٹیش آئر کی خراب فارم نے کے کے آرکو ٹاٹ آرڈر میں بار بار تبدیلیاں کرنے پر مجبور کیا لیکن ان کا کوئی بھی تجربہ درست ثابت نہیں ہوا بلکہ ٹیم کو جس سے نقصان ہوا۔ گزشتہ سیزن میں وینکٹیش کی کارکردگی شاندار رہی تھی جس کی بنیاد پر انہوں نے ہندوستانی ٹیم میں بھی جگہ بنائی تھی لیکن اس سیزن میں وہ رنز بنانے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ٹاپ پر ان کی ناکامی کے بعد کے کے آر نے انہیں مڈل آرڈر میں آزمایا لیکن اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بائیں ہاتھ کے بیٹرکو گزشتہ میچ میں ایک بار پھر ایرون فنچ کے ساتھ اننگز کا آغاز کرنے کے لیے بھیجا گیا لیکن وہ دوبارہ ناکام رہے۔ مسلسل پانچ ناکامیوں کے ساتھ کے کے آر کے لیے پلے آف کا راستہ مشکل ہوگیا ہے۔ اسے ابھی کچھ پلیئنگ الیون کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور ٹورنمنٹ میں انہیں زیادہ تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ کے کے آر کے کپتان شریاس ایر نے آخری میچ کے بعد کہا، بہت سی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ کھلاڑی زخمی ہونے کی وجہ سے صحیح کمبی نیشن تیار کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں جارحانہ بیٹنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ شریاس نے اب تک 36.25 کی اوسط سے 290 رنز بنائے ہیں لیکن انہیں دوسرے سرے سے تعاون نہیں مل رہا ہے۔ بحیثیت کپتان شریاس نے امیدیں پیدا کی ہیں لیکن انہیں اپنے ساتھ ساتھیوں کو بھی متاثر کرنا ہوگا۔ وینکٹیش کے ساتھ نیلامی سے قبل اسکواڈ میں شامل ایک اور کھلاڑی ورون چکرورتی کی مایوس کن کارکردگی سے کے کے آر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اسے آخری میچ میں باہرکردیا گیا تھا لیکن اس سے بھی نتیجہ نہیں بدلا اور ٹیم مسلسل پانچواں میچ ہارگئی۔ ٹم ساؤتھی، امیش یادیو اور سنیل نارائن بولنگ میں متاثر کن رہے ہیں اور ان کا مقصد جوس بٹلر کے بیٹ کو پرسکون رکھنا ہوگا۔ راجستھان بٹلر پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اس کے 70.75 کی اوسط سے 566 رنز نے ٹیم کو ٹاپ فور میں رکھا ہے۔ انگلینڈ کے بیٹر سے ہر میچ میں بڑے اسکور کی توقع نہیں کی جا سکتی اس لیے کپتان سنجو سیمسن کو اپنی کارکردگی میں مستقل مزاجی دکھانا ہو گی۔ بولنگ راجستھان کی مضبوط شعبہ ہے لیکن گزشتہ میچ میں اوس نے بڑا اثر ڈالا، جس نے ممبئی انڈینزکو 159 رنز کے اسکور حاصل کرنے سے نہیں روکا۔ یوزویندر چہل اس سیزن میں اب تک 13.68 کی اوسط سے 19 وکٹیں لے چکے ہیں اور بولرز کی فہرست میں سب سے آگے ہیں۔ ان کے علاوہ راجستھان کے پاس روی چندرن اشون، ٹرینٹ بولٹ اور کرشنا جیسے بولرس ہیں جو کے کے آر کیلئے مزید مسائل پیداکرسکتے ہیں ۔