قومی سلامتی کے امور میں احتیاط کی ضرورت، عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسئلہ پر سابق چیف جسٹس کا تبصرہ
حیدرآباد 19 جنوری (سیاست نیوز) سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے ٹرائل میں تاخیر کی صورت میں ملزمین کو ضمانت کی منظوری کی تائید کی ہے۔ جئے پور میں لٹریچر فیسٹول کے دوران ڈی وائی چندر چوڑ سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ پر سوالات کئے گئے۔ سپریم کورٹ نے حال میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔ اس بارے میں سینئر جرنلسٹ ویر سنگھوی نے سابق چیف جسٹس سے سوال کیا کہ جس پر انہوں نے کہا کہ سزا کے تعین سے پہلے ضمانت کا حصول ملزمین کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمہ کا گہرائی سے جائزہ لے کہ آیا یہ معاملہ قومی سلامتی سے متعلق تو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمین کو ضمانت جیسی راحت سے قبل عدالت کو قومی سلامتی کا جائزہ لینا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے دہلی فسادات 2020 مقدمہ میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کردیا۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ سزا کے تعین سے قبل ضمانت کا حصول ملزمین کا حق ہے۔ ہمارا قانون مفروضہ پر مبنی ہے اور قانون کی نظر میں جرم ثابت ہونے تک ہر شخص بے قصور ہوتا ہے۔جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ اگر کوئی شخص انڈر ٹرائل قیدی کے طور پر پانچ سال یا سات سال جیل میں گزاریں اور آخر میں وہ بے قصور ثابت ہو تو پھر اس مدت کے نقصان کی بھرپائی کس طرح کی جائیگی ۔ مختلف مقدمات کی مثال پیش کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اس بات کا اندیشہ ہو تو ملزم سماج میں واپسی کے بعد دوبارہ جرائم میں ملوث ہو۔ شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے یا ضمانت کا فائدہ اٹھاکر قانون کے ہاتھوں سے بھاگنے کی کوشش کرے تو ضمانت سے انکار کیا جاسکتا ہے۔ اگر مذکورہ تین امکانات نہیں پائے جاتے تو ضمانت منظور کی جانی چاہئے ۔ چندر چوڑ نے کہا کہ جہاں قومی سلامتی کا معاملہ ہو ، عدالت کی ذمہ داری ہے کہ گہرائی سے جائزہ لیں ورنہ ملزمین کو کئی برسوں تک جیل میں گزارنے پڑسکتے ہیں۔ جسٹس چندر چوڑ نے سیشن اور ڈسٹرکٹ کورٹس سے ضمانتوں سے انکار پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ججس کو اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ ان کی یکجہتی پر سوال اٹھیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاملات میں ضمانت کی درخواستیں سپریم کورٹ پہنچ رہی ہیں۔ جسٹس چندر چوڑ نے عدالتوں میں مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ سابق چیف جسٹس نے تجویز پیش کی کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججس کے تقرر کے سلسلہ میں کالجیم میں سیول سوسائٹی کی اہم شخصیتوں کو شامل کیا جانا چاہئے تاکہ تقررات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور عدلیہ پر عوام کا اعتماد مضبوط ہو۔ سبکدوشی کے بعد کوئی عہدہ قبول نہ کرنے سے متعلق سوال پر جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ فی الوقت وہ ایک عام شہری کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ چندر چوڑ کے دور میں سپریم کورٹ کی کارروائی کے لائیو ٹیلی کاسٹ کا آغاز ہوا جو تمام ہندوستانی زبانوں میں موجود ہے۔1