ٹرافک کو باقاعدہ بنانے مزید ٹرافک سگنلس

   

Ferty9 Clinic

59 کروڑ روپئے مختص ، اندرون 6 ماہ پراجکٹ کی تکمیل
حیدرآباد :۔ شہر حیدرآباد جہاں ایک طرف تیزی سے ترقی کررہا ہے وہیں دوسری طرف شہر کی آبادی میں بھی زبردست اضافہ ہورہا ہے ۔ جس کے پیش نظر سڑکوں پر لاکھوں نئی گاڑیاں دوڑ رہی ہیں ۔ جس سے ٹرافک مسائل بھی بڑھ رہے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے جی ایچ ایم سی نے شہر میں موجود 221 ٹرافک جنکشن میں مزید 155 نئے جنکشنس کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے 59 کروڑ روپئے مختص کرتے ہوئے اندرون 6 ماہ نئے جنکشنس پر سگنلس لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ فی الحال حیدرآباد کے حدود میں 155 ، سائبر آباد کے حدود میں 41 اور رچہ کنڈہ کے حدود میں 25 ٹرافک سگنلس موجود ہیں ۔ اس کی دیکھ بھال اور نگرانی بھارت الیکٹرانکس لمٹیڈ ایجنسی کی ذمہ تھی ۔ جس کا کنٹراکٹ 30 نومبر کو ختم ہوگیا ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے موجودہ ٹرافک جنکشنس کے علاوہ نئے 155 سگنلس حیدرآباد کے حدود میں 80 سائبر آباد کے حدود میں 50 اور رچہ کنڈہ کے حدود میں 25 جنکشنس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں نئے سگنلس کے قیام کے ساتھ موجودہ 221 سگنلس کی آئندہ پانچ سال تک دیکھ بھال اور نگرانی کی ذمہ داری آئی بی آئی گروپ کو سونپ دی ہے اور اس کے لیے 59 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں ۔ آئندہ 6 ماہ میں نئے سگنلس کا نظام دستیاب لانے کے لیے جنگی خطوط پر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ شہر حیدرآباد کی سڑکوں پر پڑوسی ریاستوں ، اضلاع سے گاڑیاں پہونچنے کے علاوہ نئی گاڑیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ گذشتہ سال تک 4 تا 5 لاکھ گاڑیاں سڑکوں پر گھومتی تھی ۔ جاریہ سال کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ حیدرآباد کے علاوہ اضلاع رنگاریڈی اور میڑچل میں 1.47 لاکھ نئی گاڑیاں سڑکوں پر آئی ہیں ۔ پہلے سے موجود گاڑیوں کے ساتھ نئی گاڑیوں کے سڑکوں پر پہونچنے پر ٹرافک مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جس کے پیش نظر 155 مزید نئے سگنلس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔۔