ٹرمپ۔جو بائیڈن کا پہلا مباحثہ، ایک دوسرے پر ذاتی حملے

,

   

Ferty9 Clinic

واشنگٹن: ریپبلکن سے تعلق رکھنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن کے درمیان ٹرمپ قیادت میں کورونا وائرس، معیشت اور سالمیت کے حوالے سے پالیسیز پر زبردست مقابلہ دیکھا گیا جس میں ذاتی توہین، ایک دوسرے کو مختلف ناموں سے پکارنا اور ٹرمپ کی بار بار دخل اندازی دیکھی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ماڈریٹر کرس والیس بحث کا کنٹرول قائم کرنے میں ناکام نظر آئے۔وائٹ ہاؤس کے دونوں دعویداروں نے ایک دوسرے کے خلاف باتیں کیں اور توہین بھی کی، جس کی وجہ سے کسی بھی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہوگیا۔مباحثے کے پہلے حصے میں سپریم کورٹ کے حوالے سے گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار مداخلت سے پریشان جو بائیڈن نے ایک موقع پر کہا ‘کیا تم اپنی بکواس بند رکھو گے؟ یہ بالکل غیر صدارتی ہے’۔بعد ازاں انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر روس ولادمیر پوٹن کا حوالہ دیتے ہوئے ’’پوٹن کا کتا‘‘، مسخرا، نسل پرست’ کہا اور کہا کہ ‘تم امریکہ کے اب تک کے سب سے بدترین صدر ہو’۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘جو، تم میں بالکل ہوشیاری نہیں ہے’۔بحث کے آخر میں کرس والیس نے خود صدر سے اپیل کی کہ وہ دخل اندازی بند کریں۔انہوں نے کہا کہ ‘میرا خیال ہے کہ اگر ہم دونوں لوگوں کو کم مداخلت کے ساتھ بولنے کی اجازت دیتے تو ملک کی بہتر خدمت ہوگی، میں آپ سے اپیل کر رہا ہوں کہ جناب ایسا کریں’۔ٹرمپ نے جواب دیا ‘ٹھیک ہے، اور یہ بھی ایسا کرے’۔کرس والیس نے کہا کہ ‘مگر آپ، آپ زیادہ مداخلت کرتے رہے ہیں’۔ٹرمپ نے جواب دیا ‘مگر یہ بہت کرتا ہے’۔واضح رہے کہ 77 سالہ جو بائیڈن کو قومی رائے شماری میں 74 سالہ ٹرمپ پر مستقل برتری حاصل رہی ہے حالانکہ سروے میں کہا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان نتائج بہت قریب قریب ہوں گے۔اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ اس بحث سے انتخابات پر کیا اثر پڑے گا۔جوبائیڈن نے کورونا وائرس کے بارے میں ٹرمپ کی قیادت پر سوال کیا جس کی وجہ سے امریکہ میں 2 لاکھ سے زائد امریکی ہلاک ہوچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ گھبرا گئے تھے اور امریکیوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے کیونکہ وہ معیشت کے بارے میں زیادہ فکر مند تھے۔انہوں نے کہا کہ ‘وہ گھبرا گئے یا انہوں نے اسٹاک مارکیٹ کی جانب ہی دیکھا’۔جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ‘بہت سے لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور مزید ہوں گے جب تک یہ ذہانت کا استعمال نہیں کرتے اور جلد اقدام نہیں کرتے‘‘۔