واشنگٹن: وائیٹ ہاؤس نے ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبات ماننے سے انکار پر تاریخی ہارورڈ یونیورسٹی کی 2 ارب 20 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ روک دی۔ امریکی صدارتی محل کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی کو خط بھیجا گیا ہے جس میں یہود مخالف اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔خط میں تعلیمی پروگراموں کے آڈٹ کا مطالبہ بھی شامل ہے ، جو انتظامیہ کے خیال میں یہود مخالف رویوں کو فروغ دے رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی کو طلبہ کے داخلے کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے ۔خط میں بتایا گیا کہ بیرونِ ملک سے آئے طلبہ کی خلاف ورزیوں کو وفاقی حکام کو رپورٹ کیا جائے تاکہ یہود مخالف سرگرمیوں کو روکا جاسکے ۔تاہم یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبات مسترد کردیے جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے یونیورسٹی کی فنڈنگ روک دی۔امریکہ میں 20جنوری 2025 کو ڈونالڈ ٹرمپ کے صدارتی حلف کے بعد سے بڑے پیمانے پر ایسے اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں یہود مخالف افراد کو ویزوں کے اجرا کو روکنے ، غیر ملکی طلبہ سمیت ملازمین کیلئے پابندیاں سخت کرنے ، امریکی شہریوں کے علاوہ ہر طرح کے غیر ملکیوں کو امریکہ میں موجودگی کیلئے قانونی دستاویزات ہر وقت پاس رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔