ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا کی قائم مقام صدر سے بنیادی مطالبات

   

Ferty9 Clinic

l مطالبات تسلیم نہ کئے جانے پر نکولس مادورو جیسے انجام کیلئے تیار رہیں l امریکہ مخالف ممالک کو تیل کی فروخت بند کرنا سب سے اہم مطالبہ

واشنگٹن ۔ 6 جنوری (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اس اشارے کے بعد کہ وینزویلا کی قائم مقام خاتون صدر دلسی رودریگز کو بھی صدر نکولس مادورو جیسا انجام دیکھنا پڑ سکتا ہے، با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہیکہ واشنگٹن رودریگز سے تین بنیادی مطالبات کرنا چاہتا ہے۔امریکہ چاہتا ہیکہ دلسی رودریگز آزادانہ انتخابات کے انعقاد میں سہولت فراہم کریں اور اقتدار سے دست بردار ہو جائیں۔ امریکی حکام نے وینزویلا کی قائم مقام صدر سے یہ مطالبہ بھی کیا ہیکہ وہ امریکہ کے مخالف ممالک کو تیل کی فروخت بند کریں۔ یہ بات منگل کو ویب سائٹ پولیٹیکونے بتائی۔ امریکی حکام نے مادورو کی نائب سے مطالبہ کیا کہ وہ واشنگٹن کے مخالف ممالک اور نیٹ ورکس کے ’’ایجنٹس‘‘ کو ملک سے نکالیں، اور منشیات کی اسمگلنگ پر نگرانی سخت کریں، تاکہ مادورو جیسے انجام سے بچا جا سکے۔یہ معلومات ایسے وقت سامنے آئیں جب ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے تیل کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کے ساتھ پہلی با ضابطہ بات چیت کی، تاکہ انہیں وینزویلا میں کم ہوتی ہوئی تیل کی پیداوار کو دوبارہ بحال کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ پولیٹیکو کے مطابق یہ تفصیلات مذکورہ گفتگو سے آگاہ چار افراد نے فراہم کیں۔تاہم تیل کمپنیوں کے سربراہان ایک ایسے ملک میں دوبارہ داخل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں جہاں سوشلسٹ نظام حکومت ہے اور سیاسی بے چینی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر اس کے بعد کہ امریکی افواج نے گذشتہ ہفتے مادورو کو حراست میں لیا۔یہ کمپنیاں اس بات پر بھی غور کر رہی ہیں کہ وینزویلا واپسی کیلئے کس نوعیت کی مراعات درکار ہوں گی۔ اس حوالے سے دو با خبر صنعتی ذرائع کا کہنا ہیکہ ممکنہ مراعات میں امریکی حکومت کی جانب سے ادائیگی اور سکیورٹی کی ضمانت دینے والے معاہدے، یا سرکاری و نجی شعبہ کے درمیان شراکت داری شامل ہو سکتی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اس معاملے پر ٹرمپ کے اصرار کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ ان کے بقول زیادہ تر کمپنیاں کافی عرصے سے اس پر غور کر رہی ہیں، بلکہ غالبا تمام بڑی کمپنیاں اس بارے میں نہایت سنجیدگی سے سوچ رہی ہیں۔ ایک اور ذریعہ نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ کو یہ امید بھی ہیکہ امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ، جو امریکہ میں سرگرم تیل کمپنیوں کی نمائندہ ایک طاقتور تجارتی تنظیم ہے… اس نے وائٹ ہاؤس کو وینزویلا میں تیل کی پیداوار بحال کرنے کے بہترین طریقوں پر مشاورت دینے کیلئے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دے گی۔
دوسری جانب وینزویلا کی قائم مقام صدر نے ان اطلاعات کے تناظر میں امریکی انتظامیہ سے کسی بھی رابطے کی تردید کی، اور کہا کہ اکتوبر کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ادھر وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا ہے کہ وینزویلا ’’امریکہ براعظموں کا توانائی مرکز‘‘ بنے گا، اور مادورو کی گرفتاری پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے گذشتہ شب اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کا ملک وینزویلا کے ساتھ جنگ کی حالت میں نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کی انتظامیہ وینزویلا میں سرمایہ کاری کرنے والی تیل کمپنیوں کو معاوضہ دے سکتی ہے، تاکہ تیل کی پیداوار کو برقرار رکھا جا سکے اور اس میں اضافہ ہو۔واضح رہے کہ مادورو گزشتہ ہفتے کی شام سے بروکلین کی ایک جیل میں قید ہیں، جو امریکہ کی بڑی جیلوں میں شمار ہوتی ہے اور خراب طبی حالات اور انتظامی خامیوں کے حوالے سے بد نام ہے۔ مادورو کو منشیات کی اسمگلنگ اور خودکار ہتھیار رکھنے سے متعلق چار الزامات کا سامنا ہے۔