مشرق وسطیٰ سے ایک لیٹر تیل بھی گزرنے نہیں دیں گے ، پاسداران انقلاب کا انتباہ
تہران: 11 مارچ (یو این آئی) ایرانی مشیر خارجہ کمال خرازی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانیوں کی فطرت کے بارے میں پتہ ہی نہیں ہے اس لیے ہتھیار ڈالنے کی بات کر رہے ہیں۔ امریکی اخبار سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کمال خرازی نے کہا کہ 500 سالہ ایرانی تہذیب اور ثقافت سے لیس ایرانیوں کو شیعہ نظریے اور اسلامی تصوف سے مضبوطی ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لمبی جنگ کی صلاحیت نہ ہونے کی بات امریکی پروپیگنڈا ہے ، ٹرمپ کو ایرانیوں کا پتہ نہیں ہے اس لیے ہتھیار ڈالنے کی بات کر رہے ہیں، ایران اپنے ہتھیار ایران ہی میں تیار کرتا ہے ، امپورٹ نہیں کرتا، پُرعزم ایرانی افواج طویل عرصے جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ کمال خرازی نے مزید کہا کہ سفارت کاری کی گنجائش ختم ہو چکی، موجودہ محاذ آرائی ایران کے وجود کے لیے خطرہ ہے ، ایران کو پوری طاقت کے ساتھ جواب دینا ہوگا۔ دوسری جانب ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عاشور سے محبت کرنے والی قوم کو کھوکھلی دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں کیا جاسکتا۔دوسری طرف پاسداران انقلاب نے خطے میں موجود تمام امریکی فوجی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا مشرقِ وسطیٰ سے اب ایک لیٹر تیل بھی نہیں گزرنے دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت ترین موقف اپناتے ہوئے خطے میں موجود تمام امریکی فوجی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے ۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ کی شروعات امریکہ اور اسرائیل نے کی تھی لیکن اب اس کا خاتمہ ایران کرے گا۔ انہوں نے سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ سے اب ایک لیٹر تیل بھی نہیں گزرنے دیا جائے گا۔ ایران نے ایک نئی شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ان ممالک کو آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی جو اپنے ملک سے امریکی اور اسرائیلی سفیروں کو ملک بدر کریں گے ۔ دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں کیونکہ ماضی کا تجربہ انتہائی تلخ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نہ تو ایران کا جوہری پروگرام روک سکا ہے اور نہ ہی میزائل حملوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوا ہے ۔ عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ دشمن کی کارروائیوں نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں، لیکن ایران اپنی خودمختاری کے لیے جوابی حملے جاری رکھے گا۔