واشنگٹن ۔ 19 جنوری (ایجنسیز) ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کا معاملہ تو اپنی جگہ، لیکن ٹرمپ کی یہ کوشش دراصل ایک قسم کا پاور کا پروجیکشن ہے کہ ان کے پاس اتنی طاقت ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہر کلول بھٹاچاریہ نے کہا کہ آپریشن سیندور شروع ہونے کے بعد سے ہی ٹرمپ کی یہ کوشش رہی ہے کہ ان کی جو طاقت ہے اسے دنیا بھر میں استعمال کریں۔ وہ دنیا کو ایک ایسا پیام دینا چاہتے ہیں کہ جو ممالک کہیں پر ایک دوسرے سے ملتے نہیں ہیں، وہ بھی ان کے کہنے پر ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ کلول بھٹاچاریہ نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات جگ ظاہر ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت کہیں بھی پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے نظر نہیں آنا چاہتے۔ لیکن ٹرمپ کی یہ کوشش ہے کہ صرف بھارت، پاکستان ہی نہیں بلکہ ایسے وہ تمام ممالک جو آپس میں مل نہیں رہے ہیں، جو بات چیت نہیں کر رہے ہیں، وہ ٹرمپ کے کہنے پر ایک دوسرے سے ملیں۔ یہ ایک طرح کا پاور پروجیکشن ہے اور ٹرمپ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ اس وقت وہی دنیا کے سب سے طاقت ور لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اس وقت کے امریکی صدر ووڈرو ولسن نے پہلی عالمی جنگ کے بعد لیگ آف نیشن قائم کی تھی، ٹرمپ بھی اسی طرح کا اپنا ایک لیگ آف نیشن قائم کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ کلول کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ کے اپنے تجارتی مفادات بھی ہیں اور اس پاور پروجیکشن کا ایک مقصد دنیا کو اپنے قابو میں کرنا ہے۔