ٹرمپ نظم ونسق کا بائیڈن کو اقتدار کی منتقلی سے انکار

,

   

واشنگٹن : ڈونالڈ ٹرمپ کا انتظامیہ صدر منتخب جوزف بائیڈن کی ٹیم کو وفاقی حکومت کی منتقلی کی شروعات کرنے سے صاف سیدھا انکار کردیا ہے ۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے دعوؤں پر اٹل ہیں کہ الیکشن میں دھوکہ کیا گیا اور وہ اقتدار حوالے کرنے والے نہیں ۔ ویسے ری پبلکن پارٹی میں اختلاف کی خبریں بھی مل رہی ہیں ۔ دریں اثناء بائیڈن کی ٹیم وائٹ ہاؤز کے دروازے مسلسل کھٹکھٹارہی ہے ۔ پیر کو ناخوشگوار تبدیلیوں کے آثار نظر آئے جب سربراہ جنرل سروسیس اڈمنسٹریشن ( جی ایس اے ) نے اُس مکتوب پر دستخط کرنے سے انکار کیا جو بائیڈن کی ٹرانزیشن ٹیم کو حکمرانی کیلئے تیاری کے سلسلہ میں ہر وفاقی عمارت میں دفتر کی گنجائش اور تقریباً 10ملین ڈالر کا بجٹ الاٹ کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے ۔ جی ایس اے وہ ادارہ ہے جو وفاقی عمارتوں کا نگران ہے ۔ ٹرانزیشن سے وابستہ عہدیداروں کو حکومت کے ای میل پتے اور سبکدوش ہونے والے عہدیداروں تک رسائی بھی فراہم کی جاتی ہے ۔ تاہم جی ایس اے ایڈمنسٹریٹر ایملی مرفی نے معمول کے طریقہ کار کے مطابق عمل کرنے سے انکار کرتے ہوئے معاملہ کو پیچیدہ کردیا ہے ۔ ایملی کو ٹرمپ نظم و نسق نے مقرر کیا تھا اور اُن کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس سے احکام کی وصولی سے قبل وہ ٹرانزیشن کے عمل میں حصہ نہیں لیں گی ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ اپنی شکست تسلیم کرنے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہیں اور وہ صدر منتخب بائیڈن کو چیلنج کرتے رہیں گے ۔ امریکی انتخابی نظام کے مطابق اب تمام تر معاملہ تین کلیدی تاریخوں پر منحصر نظر آرہا ہے ۔ 8ڈسمبر تمام انتخابی تنازعات کی یکسوئی کیلئے قطعی تاریخ ہے ۔ 14ڈسمبر کو الکٹورل کالج اپنے بیالٹس کا استعمال کرے گا جو ہر ریاست میں اکثریتی عوامی ووٹ کے حق میں ہوتا ہے ۔6جنوری کو الکٹورل ووٹس واشنگٹن ڈی سی میں کانگریس سے باضابطہ توثیق کیلئے رجوع کئے جاتے ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ دو یوم کے دوران مسلسل ٹوئٹس کرتے ہوئے بائیڈن ۔ کملا ہیرس ٹیم پر الزام عائد کیاہے کہ انہوں نے جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا ہے ۔ ٹرمپ کو اپنی پارٹی میں کئی قانون سازوں کی تائید حاصل ہے لیکن پارٹی سے وابستہ سابق امریکی صدر جارج بش نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے صدر منتخب بائیڈن سے بات کی اور انہیں کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے ۔