ٹرمپ نیتن یاہو سے بھی نوبل انعام کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب

   

تل ابیب ۔ 8 جولائی (ایجنسیز) اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا ہے اور اس حوالے سے ایک خط نوبل کمیٹی کو بھی بھیجا ہے۔ بنجامن نیتن یاہو نے ملاقات کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کو وہ خط بھی پیش کیا جو انہوں نے نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کے طور پر کمیٹی کو بھیجا تھا، ٹرمپ اس پر خوش دکھائی دیے اور نیتن یاہو کا شکریہ ادا کیا۔نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ عشائیے کے دوران کہاکہ وہ اس وقت بھی، جب ہم یہاں موجود ہیں۔، ایک کے بعد دوسرے ملک اور ایک کے بعد دوسرے خطے میں امن قائم کر رہے ہیں‘ڈونالڈ ٹرمپ کو ماضی میں بھی ان کے حامیوں اور ریپبلکن ارکان کی جانب سے نوبل امن انعام کیلئے کئی بار نامزد کیا جا چکا ہے، ٹرمپ متعدد بار اس بات پر ناراضی ظاہر کر چکے ہیں کہ انہیں یہ معتبر انعام نہیں ملا۔ٹرمپ نے شکوہ کیا ہے کہ ناروے کی نوبل کمیٹی نے ہندوستان اور پاکستان، نیز سربیا اور کوسووو کے درمیان ان کے ثالثی کردار کو نظر انداز کیا۔انہوں نے مصر اور ایتھوپیا کے درمیان امن قائم رکھنے اور اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے والے معاہدہ ابراہیمی کی ثالثی کا کریڈٹ بھی مانگا ہے۔ٹرمپ نے خود کو انتخابی مہم کے دوران ایک ’امن ساز‘ کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی مذاکراتی مہارت کے ذریعے یوکرین اور غزہ کے تنازعات کو جلد ختم کر دیں گے، تاہم ان کی صدارت کے پانچ ماہ گزرنے کے باوجود دونوں جنگیں اب بھی جاری ہیں۔