35 غیراقوام متحدہ کی تنظیمیں اور 31 اقوام متحدہ سے متعلقہ ادارے شامل ، بیکار ادارو ں کی سرپرستی س انکار
واشنگٹن، 8 جنوری (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی مفاد کا حوالہ دیتے ہوئے ملک کو 66 عالمی تنظیموں سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں سمیت ان 66 بین الاقوامی تنظیموں، ایجنسیوں اور کمیشنوں سے اب امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ حکم نامے کے مطابق یہ گروپ اب امریکی قومی مفادات کی خدمت نہیں کرتے ہیں۔صدر کے دفتر نے ان تنظیموں کی شناخت بیکار، غیر موثر اور نقصان دہ اداروں کے طور پر کی ہے ۔ امریکی انتظامیہ کا اس قسم کا جائزہ ابھی جاری ہے ، جس سے مستقبل میں ایسی تنظیموں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے ۔ موجودہ حکم بنیادی طور پر اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں کو نشانہ بناتا ہے جو آب و ہوا، مزدوری اور متعلقہ مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق، ایگزیکٹو آرڈر 14199 کے تحت حکومتی سطح پر کیے گئے جائزے میں 35 غیر اقوام متحدہ کی تنظیمیں اور 31 اقوام متحدہ سے متعلقہ ادارے پائے گئے جو امریکی معیار پر پورا نہیں اترتے تھے ۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 7 جنوری کو جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہا کہ ان میں سے بہت سی تنظیمیں غیر ضروری، بدانتظامی یا خصوصی مفادات کے زیر کنٹرول پائی گئیں جو امریکی ترجیحات کے برعکس کام کر رہی ہیں۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی عوام کی محنت کی کمائی ان اداروں کو بھیجنا اب قابل قبول نہیں ہے ، کیونکہ اس کے بدلے میں ملک کو کچھ نہیں ملتا۔ بیان کے مطابق ٹیکس دہندگان کی اربوں ڈالر کی رقم امریکی عوام کی قیمت پر غیر ملکی مفادات کو دینے کا دور ختم ہو گیا ہے ۔انتظامیہ نے یہ بھی طے کیا کہ کچھ تنظیمیں امریکی خودمختاری، معاشی خوشحالی اور آزادی کے لیے خطرہ کررہی تھیں، جب کہ دیگر امریکی مفادات سے متصادم نظریاتی ایجنڈوں کو آگے بڑھا رہی تھیں۔ حکام نے عالمی گورننس سسٹم پر بھی تنقید کی، جس پر تنوع، مساوات، شمولیت کے اقدامات، موسمیاتی پروگرام اور صنفی مساوات جیسی مہمات کا دبدبہ ہے ۔محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے جائزے ابھی جاری ہیں اور انتظامیہ ہر معاملے کی بنیاد پر مستقبل میں امریکی شرکت کا جائزہ لینا جاری رکھے گی۔ مسٹر روبیو نے یہ بھی کہا کہ امریکہ صرف وہاں تعاون کرے گا جہاں سے عوام کے مفادات وابستہ ہیں۔
ٹرمپ کی کولمبیا کے صدر سے فون پر بات، وائٹ ہاوس مدعو
واشنگٹن، 8 جنوری (یو این آئی) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کولمبیا کے خلاف فوجی کارروائی کی بات کیے جانے کے چند ہی دن بعد بدھ کے روز دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے منشیات کی اسمگلنگ اور دونوں ممالک کے درمیان جاری دیگر تنازعات پر بات چیتکے لیے انہیں فون کیا تھا۔ اس گفتگو کے بعدٹرمپ نے اعلان کیا کہ صدر پیٹرو کے ساتھ صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کی تیاری کی جا رہی ہے ۔قابلِ ذکر ہے کہ جنوری 2025 میں مسٹر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے اور وینزویلا میں حالیہ فوجی کارروائی کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا براہِ راست رابطہ ہے ۔مسٹر ٹرمپ نے لکھا ہے کہ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو سے بات کرنا اعزاز کی بات تھی۔ انہوں نے منشیات کے تعلق سے اور ہمارے درمیان موجود اختلافات کی وضاحت کے لیے فون کیا تھا۔ میں ان کی کال اور انداز گفتگو کو سراہتا ہوں اور مستقبل قریب میں ان سے ملاقات کا خواہشمند ہوں۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور کولمبیا کے وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہوگی، تاہم تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔صدر پیٹرو نے بھی اس گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ‘خوشگوار’ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے دونوں حکومتوں کے درمیان براہِ راست مکالمے کی بحالی کی درخواست کی ہے ۔ صدر پیٹرو نے دارالحکومت بوگوٹا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ گفتگو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔
وینزویلا تیل کی آمدنی سے صرف
امریکی مصنوعات خریدے گا،ٹرمپ کا اعلان
واشنگٹن، 8 جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزوئیلا اپنے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے صرف امریکی سامان خریدے گا۔ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ امریکی سامان میں زرعی مصنوعات، ادویات، طبی آلات ، بجلی کارخانے اور توانائی کی سہولیات بہتر بنانے کے آلات شامل ہوں گے ۔ صدر ٹرمپ نے لکھا کہ وینزوئیلا نے امریکئ کو اپنے اہم ترین تجارتی شراکت دار کے طور پر منتخب کیا جو کہ عقل مندانہ انتخاب کے ساتھ ساتھ وینزوئیلا اور امریکہ دونوں کے عوام کے لیے بہت اچھا ہے ۔ ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وینزوئیلا اسی صورت میں اپنا تیل بیچ سکے گا اگر یہ امریکی مفادات میں ہو۔ نائب صدر کا کہنا تھا کہ وینزوئیلا امریکی قومی مفادات کوپورا نہیں کرسکتا تو اسے تیل بیچنے کی اجازت نہیں۔