واشنگٹن:(12 فروری (یو این آئی) امریکہ میں کینیڈا پر عائد ٹیرف ختم کرنے سے متعلق قرارداد منظور ہوگئی، صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کے 6 ارکان نے بھی کینیڈا پر عائد ٹیرف ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان نے چہارشنبہ کے روز معمولی اکثریت سے ایک ایسی قرارداد کی حمایت کی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر عائد کردہ محصولات (ٹیرف) کو مسترد کیا گیا۔ ریپبلکن اکثریت کے حامل ایوان میں یہ صدر اور ان کی جماعت کی قیادت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے ۔ اراکینِ کانگریس نے 219 کے مقابلے میں 211 ووٹوں سے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس کا مقصد ٹرمپ کی جانب سے قومی ایمرجنسی کے نفاذ کو ختم کرنا تھا، جسے بنیاد بنا کر کینیڈین اشیا پر تعزیری تجارتی اقدامات عائد کیے گئے تھے ۔ اس موقع پر چھ ریپبلکن ارکان نے تقریباً تمام ڈیموکریٹس (سوائے ایک کے ) کے ساتھ مل کر قرارداد کی حمایت کی۔ یہ ایوان میں ایک اہم علامتی ووٹنگ تھی، جہاں ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کو 218 کے مقابلے میں 214 نشستوں کی معمولی برتری حاصل ہے ۔ اس قرارداد کے سینیٹ میں بھی منظور ہونے کے امکانات روشن ہیں، جہاں ٹرمپ کی جماعت کے پاس زیادہ نشستیں ہونے کے باوجود سینیٹ دو بار کینیڈا پر ٹیرف عائد کرنے سے روکنے کے حق میں ووٹ دے چکی ہے ۔ تاہم، اس قرارداد کے قانون بننے کے امکانات کم ہیں، کیوں کہ متوقع طور پر ٹرمپ کے ویٹو کو مسترد کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ زیادہ تر ریپبلکن ارکان ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔
جب کہ صدر ٹرمپ نے ووٹنگ سے پہلے دھمکی دی تھی کہ جس نے ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں ٹیرف کے خلاف ووٹ دیا تو اس کو انتخابات کے وقت سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے ۔