ٹرمپ وینزویلا کی آئل انڈسٹری میں 100 ارب ڈالر س مشغول کرینگے ؟

   

Ferty9 Clinic

نیویارک ۔ 6 جنوری (ایجنسیز) وینزویلا کی بحرانی شکل میں موجود آئل انڈسٹری کو بحال کرنے کا صدر ٹرمپ کا منصوبہ ایک طویل مدتی چیلنج ہو سکتا ہے۔ جس کی لاگت 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگی۔برسوں پر پھیلی کرپشن ، سرمایے کی کمی اور چوری نے وینزویلا کے خام تیل کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ رائس یونیورسٹی کے تھنک ٹینک ‘بیکر انسٹیٹیوٹ برائے پبلک پالیسی’ میں بات کرتے ہوئے لاطینی امریکہ کیلئے توانائی پالیسی کے ڈائریکٹر فرانسسکو مونالڈی نے کہا وینزویلا کی تیل کی پیداوار 1970 کی بلند ترین سطح پر واپس لانے کیلئے آئل کمپنیوں کو اگلے 10 برسوں کے دوران 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔یہ امریکی آئل کمپنی ‘ایگزان موبل’ کی سرمایہ کاری کے ایک تہائی سے زیادہ ہوگی۔’ایگزان موبل’ نے رواں سال کے دوران پوری دنیا میں سرمایہ کاری کے اخراجات کیلئے ایک نیا بجٹ تشکیل دیا ہے۔مونالڈی نے مزید کہا کہ وینزویلا آئل انڈسٹری کی بحالی کیلئے اس سے بھی زیادہ سرمایے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ وینزویلا دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخیرے کا مالک ملک ہے۔ تاہم صدر نکولس مادورو کے 12 سالہ دور اقتدار کے دوران اس کی تیل کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ اسی صدر کو ہفتہ کے روز ان کی اہلیہ سمیت امریکی فوج نے ان کے کمرے سے جاکر اٹھا لیا تھا۔وینزویلا ان دنوں میں روزانہ 1 ملین بیرل تیل پیدا کر رہا ہے۔ 1974 میں اس کی تیل پیدا کرنے کی شرح موجودہ کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ تھی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ‘اے بی سی’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اتوار کے روز کہا انہیں توقع ہے کہ امریکی سرمایہ کار کمپنیاں اپنے لیے مواقع تلاش کرنے کیلئے پرجوش ہوں گی اور تیل کمپنیاں اسی جذبے کے تحت وینزویلا میں تیل کے ذخیروں کیلئے کھدائی کا کام کریں گی۔ جو امریکہ و خلیج کی ساحلی ریفائنریز کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل ہوگا۔مارکو روبیو نے مزید کہا میں نے امریکی آئل کمپنیوں سے اس بارے میں بات نہیں کی ہے۔
لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ انہیں اس میں ڈرامائی حد تک دلچسپی ہوگی اور میں یہ بھی خیال کرتا ہوں کہ ہمارے ملک کی نجی کمپنیاں بھی اس سلسلے میں سرمایہ لگانے کیلئے آگے بڑھ کر کام کریں گی۔وینزویلا میں امریکی فوج کے استحکام لانے سے پہلے یہ کمپنیاں یقیناً یہ خواہش رکھیں گی کہ وہاں پر استحکام ہو۔ یہ بات سابق مینیجر برائے نیشنز سٹیٹ آئل کمپنی نے کہی ہے۔ جو وینزویلا سے دو دہائیاں پہلے چلے گئے تھے۔کیریلو نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کسی بھی نئی سرمایہ کار کمپنی کیلئے وینزویلا میں سرمایہ لگانے سے پہلے یہ ضروری ہوگا کہ وہاں اسے نئی قومی اسمبلی نظر آئے۔ جو کچھ اس وقت وہ رہا ہے وہ وہاں نہیں ہونا چاہیے۔