ریاض ۔ 13 مئی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی منگل کو سعودی دارالحکومت ریاض، پھر قطر اور امارات کی متوقع روانگی نے اسرائیل کے اندر بعض سوالات کو جنم دیا ہے، کیوں کہ اس دورہ میں تل ابیب کو شامل نہیں کیا گیا۔ خاص طور پر اْس وقت جب کل امریکی-اسرائیلی فوجی عیدان الیگزینڈر کو حماس نے قطر اور مصر کے ذریعہ ثالثی کے بعد رہا کر دیا۔ بعض اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے قیدیوں کی رہائی کے لیے کافی کوشش نہیں کی … جب کہ دیگر کو اندیشہ ہے کہ امریکی صدر نیتن یاہو پر بعد میں دباؤ ڈال سکتے ہیں تاکہ وہ ایسا معاہدہ تسلیم کریں جو غزہ میں جنگ کو حماس کی مکمل شکست سے پہلے ہی ختم کر دے۔ یہ بات امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بتائی۔