ٹرمپ کا ایران کو مظاہرین کی ہلاکتوں کے حوالے سے انتباہ

   

واشنگٹن ؍ تہران ۔ 9 جنوری (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران میں حکام نے مظاہرین کو قتل کرنا شروع کیا تو امریکہ ایران پر ‘‘انتہائی سخت حملہ’’ کرے گا۔جمعرات کے روز قدامت پسند صحافی ہیو ہیوٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر وہ ہنگاموں کے دوران لوگوں کو قتل کریں گے، جیسا کہ وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں، تو امریکہ سخت کارروائی کرے گا۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری احتجاجات کے معاملے میں انتہائی صبر و تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں زور دیا کہ کسی بھی قسم کے پْر تشدد یا جابرانہ رویے سے گریز کیا جائے اور عوام کے مطالبات سننے کیلئے بات چیت اور مکالمے کا راستہ اپنایا جائے۔جمعرات کو ایران کے دارالحکومت تہران کے شمال مغربی علاقے میں ایک مرکزی شاہراہ پر بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ یہ چیز سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر سے ظاہر ہوئی۔ یہ احتجاج ملک میں بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال کے خلاف ہو رہے ہیں۔ تصاویر میں گاڑیوں کو مظاہرین کی حمایت میں ہارن بجاتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جبکہ آیت اللہ کاشانی اسٹریٹ کا ایک حصہ مظاہرین سے بھرا ہوا تھا۔ ایران سے باہر قائم فارسی زبان کے ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں نے تبریز اور مشہد سمیت دیگر شہروں میں بھی بڑے مظاہروں کی اطلاعات دیں۔ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے اعلان کیا کہ دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے احتجاجات کے دوران ایرانی سیکیورٹی فورسز اب تک کم از کم 45 مظاہرین کو ہلاک کر چکی ہے ، ان میں 8 کم عمر افراد بھی شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق چہارشنبہ کے روز 13 مظاہرین کی ہلاکت ہوئی، جو احتجاجات کے آغاز کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ تنظیم کے سربراہ محمود امیری مقدم نے بتایا کہ سینکڑوں افراد زخمی اور دو ہزار مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔فرانس پریس کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ اور سرکاری بیانات کی بنیاد پر اب تک 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سکیورٹی اہل کار بھی شامل ہیں۔

کیا ٹرمپ مادورو کو معاف کردیں گے ؟
واشنگٹن ۔ 9 جنوری (ایجنسیز) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو کسی بھی قسم کی معافی دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اخبار کے مطابق امریکی صدر کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے امریکہ میں زیرِ الزام بعض افراد (جن میں نکولس مادورو بھی شامل ہیں) کو معافی دینے کے امکان کے بارے میں سوال کیا گیا، تو ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ وہ مذکورہ افراد کو معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ٹرمپ نے کہا کہ بطور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ان کے اختیارات کو صرف ان کی ‘‘ذاتی اخلاقیات’’ ہی محدود کرتی ہیں۔ انہوں نے فوجی طاقت کے استعمال پر بین الاقوامی قانون اور دیگر پابندیوں کی اہمیت کو نظر انداز کیا۔نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں عالمی سطح پر اپنے اختیارات سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا ‘‘ہاں، ایک چیز ہے، میری ذاتی اخلاقیات، میری اپنی سوچ، یہی واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے۔ مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں، میں لوگوں کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا۔’’جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ آیا ان کی انتظامیہ کو بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنی چاہیے تو ٹرمپ نے جواب دیا … ‘‘ہاں’’، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود یہ طے کریں گے کہ امریکہ پر یہ پابندیاں کب لاگو ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا: ‘‘یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ بین الاقوامی قانون کو کس طرح بیان کرتے ہیں۔’’جمعرات کو امریکی سینیٹ نے 52 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے ایک قرارداد منظور کی، جس کے تحت صدر ٹرمپ کو کانگریس کی اجازت کے بغیر وینزویلا میں کسی بھی اضافی فوجی کارروائی سے روکا جائے گا۔ یہ اقدام گذشتہ ہفتے کے روز نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کیلئے کی گئی کارروائی کے بعد سامنے آیا۔