ٹرمپ کا بھی سیاسی حریف کے ساتھ’’ورچوئل انتخابی مباحثہ ‘‘سے انکار

   

Ferty9 Clinic

واشنگٹن : امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی حریف اور صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے ساتھ ورچوئل انتخابی مباحثے سے انکار کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکی صدر نے کہا ’میں ایک ورچوئل بحث پر اپنا وقت ضائع کرنے والا نہیں ہوں’۔صدارتی مباحثوں کے انچارج نان پارٹیزن کمیشن کی جانب سے نئے فارمیٹ کے اعلان کے بعد فاکس بزنس کے ساتھ فون پر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ‘ورچوئل بحث کوئی بحث نہیں ہوتی’۔ٹرمپ نے کہا کہ ‘آپ ایک کمپیوٹر کے پیچھے بیٹھ کر مباحثہ کرتے ہیں، یہ مضحکہ خیز ہے اور وہ جب چاہیں آپ کی لائن کاٹ دیں’۔امریکی صدر نے کہا کہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ انتخابی جلسوں کے انعقاد کے خواہشمند ہیں۔دوسری جانب صدارتی انتخاب کے امیدوار جو بائیڈن نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ مباحثہ کمیشن کی سفارشات پر عمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ اگر ٹرمپ نے حصہ لینے سے انکار کردیا تو وہ کیا اقدام کریں گے۔جو بائیڈن نے کہا کہ ‘ہمیں نہیں معلوم کہ ٹرمپ کیا کرنے جا رہے ہیں کیونکہ وہ ہر سیکنڈ میں اپنا خیال بدلتے ہیں’۔صدارتی مباحثوں سے متعلق کمیشن نے کہا کہ انہوں نے ٹاؤن ہال طرز پر مبنی گفتگو کی میزبانی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور رائے دہندگان اور ماڈریٹر میامی میں مباحثے کی اصل جگہ سے امیدواروں سے سوالات پوچھیں گے۔ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان تین میں سے دوسرے کے لیے ورچوئل بحث کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جبکہ تیسرا انتخابی مباحثہ 22 اکتوبر کو متوقع ہے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے مابین 15 اکتوبر کو دوسرا سیاسی مباحثہ طئے ہے۔دوسری جانب جو بائیڈن کے ایک معاون نے کہا کہ ڈیموکریٹک کے نامزد امیدوار ابھی بھی انتخابی مباحثے میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔