ٹرمپ کا سفری تحدیدات کا فیصلہ لاس اینجلس 2028 کیلئے خطرہ

   

پہلی خاتون صدر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کرسٹی کوونٹری کو کئی مسائل درپیش۔ 2036 گیمز حاصل کرنے ہندوستان کو تال میل بڑھانا ہوگا
نیویارک؍لندن: زمبابوے کی کرسٹی کوونٹری کو حال ہی میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ وہ آئی او سی کی 131 سالہ تاریخ میں تنظیم کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون اور پہلی افریقی بن گئی ہیں۔ وہ اس ذمہ داری کو سنبھالنے والی سب سے کم عمر امیدوار بھی ہیں۔ تاہم، اس جوش و خروش کے درمیان انہیں کچھ بڑے مسائل درپیش ہیں جن کو حل کرنے کیلئے بہت جلد غور کیا جانا چاہیے۔ ان اہم مسائل میں پہلا مسئلہ 2028 کے اولمپک کھیلوں سے متعلق ہے جو لاس اینجلس میں منعقد ہوں گے۔ یہ مسائل اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 43 ممالک کے شہریوں پر سفری امتناع اور سفری تحدیدات نافذ کر دی ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں جاری کردہ ایک میمو کے مطابق ممالک کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے … ریڈ، آرینج اور یلو۔ سرخ زمرے کے ممالک کے شہریوں کو داخلے سے صاف انکار کردیا جائے گا۔ ان میں افغانستان، کیوبا، ایران، لیبیا، شمالی کوریا، صومالیہ، سوڈان، وینزویلا اور یمن شامل ہیں۔ نارنجی زمرے کے ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دینے سے پہلے بہت سی تحدیات اور لازمی انٹرویو کا سامنا کرنا ہوگا بشرط یہ کہ وہ اس کیلئے اہل پائے جائیں۔ ان ممالک میں ہیٹی، روس اور پاکستان شامل ہیں۔ زرد (یلو) رنگ کے زمرے میں درج ممالک کو امریکی حکومت کی طرف سے مقررہ کچھ پالیسی تبدیلیاں عمل میں لانے کا وقت دیا گیا ہے۔ ان کی منظوری امریکہ کی طرف سے رکھی گئی شرائط کو پورا کرنے سے مشروط ہوگی۔ اس گروپ کے ممالک میں زمبابوے شامل ہے ، جو خود نو منتخب صدر آئی او سی کا ملک ہے۔ یہ تمام نوعیت کے سفری امتناع اور تحدیدات بہت سے اتھلیٹس کی شرکت کو خطرے میں ڈال دیں گے۔ اگر بہت سے اتھلیٹس کو امریکہ میں داخلے سے روک دیا جائے تو لاس اینجلس میں اولمپک گیمز کا انعقاد کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر معاملہ خوش اسلوبی سے حل نہ کیا گیا تو اس بات کا خطرہ ہے کہ بہت سے ممالک گیمز کے بائیکاٹ کا انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسیاں بہت سی قوموں کو الگ تھلگ کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال پاکستان کے ارشد ندیم نے جیولن تھرو میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ ٹرمپ کے حکمنامہ کی وجہ سے موجودہ اولمپک چمپئن کو امریکہ میں داخلے کیلئے نااہل قرار دیتے ہوئے اسے شرکت سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ بالکل مضحکہ خیز ہوگا۔ اگر ندیم اور بہت سے اچھے اتھلیٹس پر پابندی لگنے والی ہے تو اولمپک گیمز کیوں کروائے جائیں؟ ٹرانس جینڈر اتھلیٹس کا مسئلہ بھی ہے۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس میں ذنخہ اتھلیٹس کو خواتین کے زمروں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ٹرمپ نے فاتحانہ انداز میں کہا تھا کہ اس ایگزیکٹو آرڈر کے ساتھ خواتین کے کھیلوں کی جنگ ختم ہوگئی ہے۔ لیکن اس موضوع پر آئی او سی کے اپنے قوانین ہیں۔ یاد رہے کہ الجزائری باکسر ایمانی خلیف کی شرکت پر پیرس اولمپکس میں کافی ہنگامہ مچا تھا۔ الزامات لگائے گئے تھے کہ خلیف مردانہ ہارمونز کے ساتھ مرد ہے اور اس کے حریفوں نے تنازعہ پیدا کیا۔ لیکن آئی او سی اور پیرس اولمپکس کے منتظمین نے فیصلہ کیا کہ طبی جانچ سے ثابت ہوا ہے کہ اس کے اندرونی نظام میں کوئی مسئلہ نہیں اور اسے خاتون کی حیثیت سے حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ وہ گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ خلیف جیسے اتھلیٹس عجب نہیں ہیں اور کئی کھیلوں میں موجود ہیں۔ تاہم یہ اسپورٹس باڈی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا متعلقہ اتھلیٹ کو حصہ لینے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے جس کا فیصلہ امریکہ یا کسی اور ملک کے صدر کو کرنا چاہیے۔ کھیلوں کے معاملات کو کھیلوں کے اداروں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ لیکن آیا ٹرمپ اس معاملے کو اس طرح دیکھیں گے یا نہیں، یہ بہت بڑا سوال ہے۔ اگر ہندوستان کو 2036 کے اولمپک کھیلوں کی کامیاب بولی لگاتے ہوئے اس کی میزبانی کرنا ہے تو ہندوستانی کھیلوں کے منتظمین اور سرکاری عہدیداروں کو نئے آئی او سی صدر کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کو ہندوستان کی امنگوں، منصوبوں اور صلاحیتوں کا واضح اندازہ ہونا چاہیے۔ ان کی آواز 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کیلئے ہندوستان کی بولی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ آیا ہندوستان آخر کار گیمز کی میزبانی کرے گا یا نہیں، اس کا انحصار کرسٹی کوونٹری اور آئی او سی میں ان کے معاونین کے رجحان و ارادوں پر منحصر ہے۔