امریکہ کاامن منصوبہ ’سوئس پنیر‘ کی مانند۔فلسطینیوں کو محدود خودمختاری۔محمود عباس کا اقوام متحدہ میں خطاب
اقوام متحدہ ، 12 فروری (سیاست ڈاٹ کام) فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کے پیش کردہ مشرق وسطیٰ امن منصوبے کو ’سوئس پنیر‘ کی مانند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوں صرف اور صرف اسرائیلی مفادات ہی حاصل کیے جائیں گے۔ اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے فلسطینی صدر عباس نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے امن منصوبے پر شدید تنقید کی اور کہا، ’’یہ امریکی امن منصوبہ فلسطینیوں کے تمام حقوق کی تردید کرتا ہے اور اس سے قیام امن کا مقصد حاصل نہیں ہو گا۔‘‘ محمود عباس نے اس متنازعہ امن منصوبے کو ’بیرونی تسلط‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہا، ’’اگر آپ اس معاہدے کو نافذ کریں گے، تو یہ دیرپا ثابت نہیں ہو گا۔ اس سے پائیدار امن قائم نہیں ہو سکے گا۔‘‘ صدر ٹرمپ کے پیش کردہ مجوزہ امن معاہدے میں اسرائیل کو فلسطینیوں کے زیر انتظام مغربی کنارے کے بہت بڑے حصے کو اپنے ریاستی علاقے میں ضم کرنے کی اجازت دی گئی ہے جب کہ فلسطینیوں کے لیے زیادہ تر سڑکوں، پلوں اور سرنگوں کے ذریعے آپس میں جڑے ہوئے علاقوں میں مشروط اور محدود خود مختاری کی تجویز دی گئی ہے۔ اس معاہدے میں تقریباً تمام اہم امورمیں اسرائیل کو ہی فوقیت دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے جب یہ معاہدہ پیش کیا، اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو بھی موجود تھے لیکن فلسطینیوں کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت تک نہیں دی گئی تھی۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے منگل کی شام اقوام متحدہ سے اپنے خطاب کے دوران اسرائیل اور فلسطین کا ایک بڑا نقشہ بھی دکھایا، جو ٹرمپ امن معاہدے پر ممکنہ عمل درآمد کے نتیجے میں سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے فلسطینی ریاست کا مستقبل ’سوئٹزرلینڈ کے بنے ہوئے پنیر‘ جیسا ہو جائے گا، جو فلسطینیوں کی خود مختاری کو محدود کر دے گا۔ عباس نے ’سوئس پنیر‘ کی اصطلاح اس لیے استعمال کی کہ ایسے پنیر میں عام طور پر بہت سے سوراخ ہوتے ہیں۔ صدر عباس نے کہا، ’’ہم اس معاہدے کے نفاذ کی مخالفت کریں گے۔ لیکن ہم کسی طرح کی دہشت گردی کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔‘‘ فلسطینی صدر کے مطابق، ’’مجھے نہیں معلوم کہ ٹرمپ کو یہ مشورہ کس نے دیا؟‘‘ انہوں نے امریکی صدر سے اس منصوبے کو ترک کر دینے کی درخواست بھی کی اور سلامتی کونسل سے اس معاملے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی اپیل بھی کی۔ فلسطینی مرکز برائے پالیسی اور سروے ریسرچ کی طرف سے منگل کے روز کرائے گئے ایک جائزے کے مطابق 94 فیصد فلسطینیوں نے ٹرمپ کے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں 64 فیصد فلسطینیوں نے کسی ممکنہ مسلح جدوجہد کی حمایت بھی کی۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر عباس نے متنبہ کیا کہ ایسی صورت میں پرتشدد مظاہرے بھی شروع ہو سکتے ہیں اور ’صورت حال کسی بھی وقت بگڑ بھی سکتی ہے۔ ہمیں امید کی ضرورت ہے۔ براہِ کرم ہمیں ہماری امیدوں سے محروم نہ کریں۔‘‘ بعد ازاں صدر عباس کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے کہا، ’’فلسطینی رہنما حقیقت پسندانہ رویہ نہیں اپنانا چاہتے۔ انہیں تنازعے کا حقیقی حل تلاش کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘