ٹرمپ کا منی سوٹا کے میئر اور گورنر پر لوگوں کو بغاوت پر اُکسانے کا الزام

   

واشنگٹن : 25 ڈسمبر ( ایجنسیز ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منی سوٹا کے میئر اور گورنر پر لوگوں کو بغاوت پربھڑکانیکا الزام عائد کردیا۔امریکی صدر نے منی ایپولس میں شہری کی ہلاکت پر مقامی قیادت کے رد عمل کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ منی سوٹا کے میئر اور گورنر کی بیان بازی بغاوت کو ہوا دے رہی ہے۔ادھر گورنر منی سوٹا ٹم والز نے کہاکہ وفاقی حکومت تحقیقات کی قیادت کے قابل نہیں، تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا جاسکتا، انہوں نے صدر ٹرمپ سے منیسوٹا سے فورس ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آئی سی ای کے اقدامات میں بے رحمی نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے چیف آف اسٹاف سے دو بار بات ہوئی، صدر ٹرمپ کے درست فیصلہ کرنے پر زیادہ اعتماد نہیں۔یاد رہے کہ امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک اور شخص کی ہلاکت کے بعد لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔اس دوران سکیورٹی اہلکاروں کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔منی ایپولس میں 7 جنوری کو بھی امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون رینی گڈ ہلاک ہوئی تھی۔

ٹرمپ نے وینزویلا کے دفاعی نظام کو جام کرنے والے ہتھیار کا نام بتادیا
واشنگٹن: 25جنوری (ایجنسیز ) امریکی صدر ٹرمپ نے اس خفیہ ہتھیار کا نام بتادیا جس نے مادورو کی گرفتاری کے وقت وینزویلا کے دفاعی نظام کو جام کردیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو میں بتایا کہ ایک خفیہ امریکی ہتھیار جسے Discombobulator کہا جاتا ہے اسے وینیزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے کے دوران استعمال کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ 3 جنوری کو کاراکاس میں ہونے والی کارروائی کے دوران امریکی فوج نے اس ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے وینیزویلا کے دفاعی نظام کو ناکارہ بنا دیا جس کے نتیجے میں وینیزویلا کے صدر مادورو کو گرفتار کیا گیا۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے حکام کے پاس روسی اور چینی راکٹ تھے، وہ سب ہمارے لیے تھے، وہ پوری طرح تیار تھے، انہوں نے بٹن دبائے مگر کچھ نہ ہوا اور وہ راکٹس کو استعمال نہیں کرپائے۔واضح رہے امریکا نے 3 جنوری کو وینزویلا کے پر بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے اور اِس کے صدر نکولس مادورو اور اْن کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکا لایا گیا تھا۔

برطانیہ کی تنقید کے بعد ٹرمپ کا برطانوی فوجیوں سے متعلق بیان تبدیل
واشنگٹن : 25جنوری ( ایجنسیز ) برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی تنقید کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان میں برطانوی فوجیوں سے متعلق اپنا بیان بدل دیا۔امریکی صدر نے اپنے تازہ بیان میں برطانیہ کے فوجیوں کو عظیم اور بہادر قرار دیا اور کہا کہ برطانیہ کے فوجی ہمیشہ امریکہ کے ساتھ رہیں گے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان میں مارے گئے457 برطانوی فوجی بری طرح زخمی ہوئے تھے اور وہ عظیم جنگجووں میں سے ایک تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایسابندھن ہے جوکبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ سوائے امریکہ کے برطانوی فوجیوں کاکوئی ثانی نہیں۔ ہم ان سے محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ محبت کرتے رہیں گے۔یاد رہے کہ دو روز قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران برطانوی فوجی فرنٹ لائن پر نہیں تھے جس کے بعد برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ٹرمپ کے بیان کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے امریکی صدر سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیاتھا۔