ٹرمپ کا پوتن اور زیلنسکی کی ملاقات نہ ہونے پر نتائج کا انتباہ

   

واشنگٹن، 26 اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ولادیمیر پوتن اور ولودیمیر زیلنسکی کی ملاقات نہ ہونے کی صورت میں نتائج سے خبردار کر دیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے دوطرفہ ملاقات میں روسی اور یوکرینی صدور کی شرکت کے حوالے سے شک کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ پوتن اور زیلنسکی دو طرفہ ملاقات میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ ٹرمپ نے کہا ‘‘میرا یقین ہے کہ ہم اس تنازعے کو سلجھا لیں گے ، ہم اسے ختم کر دیں گے لیکن نہیں معلوم کہ وہ ملیں گے یا نہیں۔ شاید وہ ملیں، شاید نہ ملیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں بھی اس ملاقات میں شامل ہوں۔ میں نے کہا یہ معاملہ آپ لوگوں کے درمیان ہے ، ہمارا نہیں۔ آپ کو اسے خود حل کرنا چاہیے ۔’’ پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پوتن زیلنسکی سے ملنے کے معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں کیوں کہ وہ انھیں پسند نہیں کرتے ، تاہم ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر دو طرفہ ملاقات نہ ہوئی تو اس کے بہت بڑے نتائج ہو سکتے ہیں، لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ۔ بہت بڑے نتائج ممکن ہیں کیوں کہ یہ معاملہ اب ختم ہونا چاہیے ۔ خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل ہی ٹرمپ نے روس یوکرین جنگ ختم کرانے کیلئے وائٹ ہاؤس میں یورپی رہنماؤں کی میزبانی کی تھی۔ اتحادیوں کا ماننا ہے کہ دو طرفہ ملاقات روس کی یوکرین جنگ ختم کرنے کے مذاکرات کا اگلا لازمی مرحلہ ہے ۔

چین نے مقناطیس نہ دیا تو200 فیصد ٹیکس عائد ہو گا:ٹرمپ
واشنگٹن، 26 اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چین کو متنبہ کیا ہے کہ مقناطیس دینے سے انکار پر 200 فیصد ٹیکس عائد ہو گا، چین نے مقناطیس امریکہ کو نہ دیئے تو بھاری ٹیرف لگایا جائے گا۔ چین نے اپریل میں نایاب معدنیات اور مقناطیس برآمدات پر پابندی لگائی تھی۔ چین کی برآمداتی پابندیاں امریکہ کی جانب سے ٹیرف بڑھانے کے جواب میں لگائی گئیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس بہت جلد اتنے مقناطیس ہوں گے کہ سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ چاہتے ہیں کہ میں چین کا دورہ کروں، صدر شی چاہیں گے کہ میں چین آؤں، یہ بہت اہم رشتہ ہے چین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے جا رہے ہیں، محصولات نے امریکہ اور چین کے درمیان بہتر اقتصادی تعلقات قائم کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع کا نام تبدیل کر سکتا ہوں، محکمہ دفاع کا نام تبدیل کر کے محکمہ جنگ رکھ سکتا ہوں۔

ٹرمپ کا امریکی وزارت دفاع کا نام بدلنے کا ارادہ
واشنگٹن، 26 اگست (یو این آئی) امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی وزارتِ دفاع کا نام بدل کر ‘ڈیپارٹمنٹ آف وار’ رکھنے کا ارادہ ظاہر کردیا۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘محکمہ دفاع’ سننے میں اچھا نہیں لگتا، ہم کس چیز کا دفاع کررہے ہیں اور دفاع ہی کیوں کررہے ہیں؟ ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں اس محکمے کا نام ‘محکمہ جنگ’ ہوا کرتا ہے ، یہ سننے میں بھی اچھا لگتا تھا اس دوران ہم نے جنگ عظیم اول جیتی، جنگ عظیم دوم جیتی اور بہت سی جنگیں جیتیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ لیکن اب ہم دفاع کرنے والے بن گئے ہیں، ٹرمپ نے اپنے ساتھ موجود عہدیداروں سے کہا کہ اگر آپ چاہیں کہ اس محکمے کا نام تبدیل کرکے محکمہ جنگ کردیا جائے اور اس پر ووٹنگ کرنا چاہیں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ ٹرمپ نے امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو کہا کہ اگر آپ نام تبدیل کرنا چاہیں تو مجھے بتا دیجیے گا جس پر پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایسا کرنا معقول ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں صرف دفاع کرنا نہیں چاہتا، ہاں دفاع بھی ہونا چاہیے لیکن صرف دفاع نہیں۔

روس سے نیوکلیئر ہتھیار کم کرنے پر بھی بات ہوئی:ٹرمپ
واشنگٹن، 26 اگست (یو این آئی) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے روس کے صدر سے نیوکلیئر ہتھیار کم کرنے کے اشو پر بھی بات کی تھی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس سے میزائل، نیوکلیئر ہتھیاروں اور دیگر امور پر بھی بات کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس چیز پر بات کی جارہی ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کو کم کیا جانا چاہیے ، اس میں چین کو بھی شامل کیا جائے گا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ سب سے زیادہ نیوکلئیر ہتھیار امریکہ کے پاس ہیں دوسرے نمبر پر روس اور چین تیسرے نمبر پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تاہم چین کے پاس ان نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد کہیں کم ہے مگر پانچ برسوں میں چین کے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد بھی امریکہ اور روس کے قریب آنے کا خدشہ ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ڈی نیوکلیئرائز کیا جائے ۔

اس سال کم جونگ ان سے ملاقات کیلئے پرامید ہوں : ٹرمپ
واشنگٹن، 26اگست (یو این آئی) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ وہ اس سال کے آخر میں ’ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا‘ کے سربراہ کم جونگ اُن سے ملاقات کرنے کی امید رکھتے ہیں۔جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ سے ملاقات کے دوران وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کم جونگ اُن سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور دوبارہ ملاقات کے خواہشمند ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں ان سے واقعی اچھی طرح ملتا ہوں، مجھے لگتا ہیکہ ان کے پاس ایک عظیم اور زبردست صلاحیتوں والا ملک ہے ۔