اوول آفس میں میڈیا ارکان کیساتھ سوال و جواب کا سیشن ، سی این این کی رپورٹ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ اپنی تجارتی جنگ پر ممکنہ یوٹرن کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چینی مصنوعات پر زیادہ محصولات ‘کافی حد تک کم’ ہوجائیں گے ، لیکن یہ صفر نہیں ہوں گے ۔امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ایک نیوز تقریب میں ٹرمپ کا یہ بیان کئی ہفتوں کے سخت رویے اور انتقامی کارروائی کے بعد بیان بازی میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں چین پر محصولات کی شرح 145 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔اوول آفس میں صحافیوں کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن میں ٹرمپ نے کہا کہ 145 فیصد ٹیرف بہت زیادہ ہے ، تاہم اب یہ اتنا زیادہ نہیں ہوگا، یہ کافی حد تک کم ہو جائے گا لیکن یہ صفر نہیں ہوگا۔ٹرمپ نے یہ تبصرہ سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اور چین کے درمیان محصولات کی بلند شرحوں نے معیشتوں کے درمیان تجارت کو مؤثر طریقے سے روک دیا ہے ۔بیسینٹ نے جے پی مورگن چیس کی میزبانی میں ایک نجی سرمایہ کاری کانفرنس میں کہا تھا کہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ ناقابل برداشت ہے ، اور انہیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں اس جنگ میں کمی آئے گی۔ذرائع نے ‘سی این این’ کو بتایا کہ امریکہ اور چین کے درمیان سخت وقفے یا مکمل علیحدگی کے بجائے ، بیسنٹ نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ مقصد تجارت کو دوبارہ متوازن کرنا ہے ۔اس جائزے سے وال اسٹریٹ میں تیزی آئی اور بیسنٹ کے ریمارکس کے منظر عام پر آنے کے بعد تینوں بڑے امریکی اسٹاک انڈیکس اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے ۔بدھ کے روز ایشیائی حصص میں بھی اضافہ ہوا، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس علاقائی تیزی میں سب سے آگے رہا، آخری بار اس میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا تھا، جب کہ جاپان کے نکی 225 میں تقریباً 2 فیصد اور جنوبی کوریا کے کوسپی میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا تھا۔دنیا کی دو بڑی معیشتوں نے تیزی سے بڑھتی ہوئی لڑائی میں ایک دوسرے پر ریکارڈ محصولات عائد کیے ، جس نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، سپلائی چین میں خلل پڑا اور کساد کے خدشات نے جنم لیا تھا۔اب تک چین نے جارحانہ لہجہ اختیار کیا ہے اور پیچھے ہٹنے سے انکار کیا ہے ۔