واشنگٹن : امریکہ کے مرکزی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر نے کانگریس کے سامنے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر 8 گولیاں چلائی گئی تھیں اور وہ بظاہر کان پر گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔ اب ایسے شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ ٹرمپ کو گولی لگی بھی تھی یا نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ کے دائیں کان کے اوپری حصے پر ایک گولی لگی جس کے باعث وہ گرے۔ ٹرمپ کو سیکریٹ سروس ایجنٹس نے سنبھالا اور اٹھایا تو اْنہوں نے مکا فضا میں لہرایا اور کہا کہ میں لڑتا رہوں گا۔ مکا لہرانے سے ٹرمپ کو انتخابی مہم میں خاصا بڑھاوا ملا ہے۔ گولی کھاکر مکا فضا میں لہراتے وقت کی تصویر نے لاکھوں امریکیوں کے ذہن میں یہ بات فِٹ کردی کہ ری پبلکن صدارتی امیدوار بہت بہادر ہے اور قوم کے لیے لڑنا جانتا ہے۔ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کے حوالے سے سازش کا نظریہ بھی خبروں میں رہا ہے۔ اس حملہ کے حوالے سے شک و شبے کا اظہار کرنے والوں کی کمی نہیں۔ پہلے ہی دن بہت سے مبصرین نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ کہیں انتخابی دوڑ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے ٹرمپ نے قاتلانہ حملہ کا ڈراما تو نہیں رچایا تھا۔