واشنگٹن ۔7؍ستمبر ( ایجنسیز)امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے جس کے تحت 8 اگست سے ان تجارتی شراکت دار ممالک کو ٹیرف میں چھوٹ دی جائے گی جو امریکہ کے ساتھ صنعتی برآمدات پر معاہدے کریں گے۔ اس چھوٹ کا فائدہ خاص طور پر نکل، سونا، دواسازی کے مرکبات اور کیمیکلز جیسی اہم چیزوں پر دیا جائے گا۔ اس کا مقصد عالمی تجارتی نظام کو دوبارہ منظم کرنا، امریکی تجارتی خسارے کو کم کرنا اور تجارتی شراکت داروں کو مزید کاروبار کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے اس حکم نامہ کے تحت 45 سے زائد چیزوں کے زمروں کوشامل کیا گیا ہے جن پر اتحادی شراکت داروں کو صفر درآمدی ٹیرف ملے گا۔ یہ شراکت دار وہ ممالک ہوں گے جو امریکہ کے ساتھ ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کریں گے اور ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ باہمی محصولات اور ڈیوٹیوں کو کم کرنے کا وعدہ کریں گے۔ یہ اقدام امریکہ کے موجودہ اتحادی ممالک بشمول جاپان، یورپی یونین کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے عین مطابق ہے۔ یہ استثنیٰ پیر کی رات 12 بجے سے نافذ العمل ہوں گے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹیرف میں کمی کا اطلاق ان اشیا پر ہو گا جو امریکہ میں قدرتی طور پر اگائی، کان کنی یا تیار نہیں کی جا سکتیں یا جن کی ملکی پیداوار ناکافی ہے۔ ان مستثنیٰ اشیاء میں قدرتی گریفائٹ، نکل کی مختلف اقسام اور دواسازی کے مرکبات شامل ہیں۔