ٹرمپ کی تحریک جمہوریت کیلئے خطرہ ہے: رپورٹ

   

واشنگٹن: عوامی رائے کے ایک تازہ جائزہ میں امریکیوں کی اکثریت نے خیال ظاہر کیا ہیکہ ٹرمپ کی تحریک جمہوریت کو کمزور کر رہی ہے۔ امریکہ کے ڈیموکریٹک صدر بائیڈن کی جانب سے ریاست پنسلوانیا کے شہر فلاڈلفیا میں ایک حالیہ پرجوش تقریر کے دوران سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اُن کے ریپبلکن اتحادیوں کو انتہا پسندانہ خطرہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس بیان کے چند دن بعد برطانوی خبر رساں اداریرائٹرز اور فرانسیسی مارکیٹ ریسرچ فرم اِپسوس پول کے ایک مشترکہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکی عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تحریک ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔دو روز میں مکمل کیے جانے والے عوامی رائے کے اِس جائزے میں حصہ لینے والے رائے دہندگان میں سے 58 فیصد نے کہا کہ ٹرمپ کی ”میک امیر یکا گریٹ اگین’’(میگا) یعنی ‘‘ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں” کی تحریک، امریکی جمہوری بنیادوں کیلئے خطرہ ہے۔یہاں تک کہ اُن کی اپنی جماعت ریپبلکن کے ہر چار میں سے ایک یعنی 25فیصد رائے دہندگان نے بھی اِنہی خیالات کا اظہار کیا۔ بائیڈن کی ۔مذکورہ سروے میں 59:فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ بائیڈن کی تقریر ملک کو مزید منقسم کر دے گی، تاہم صرف نصف رائے دہندگان نے کہا کہ انہوں نے بائیڈن کی تقریر کو بالکل نہیں دیکھا تھا۔گو کہ صدر بائیڈن نے اس متنازعہ تقریر کے چند روز بعداس بات کی پرزور تردید کی تھی کہ وہ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں کو انتہا پسند اور جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیکر ریپبلکنز کو بدنام کر رہے ہیں۔ 5ستمبر کو لیبر ڈے کے موقع پر ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی میں تقریر کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا: ’’میں بالکل واضح ہوں کہ ہر ریپبلکن ”میگا” ریپبلکن نہیں ہے۔ ہر ریپبلکن اِس انتہا پسندنظریے کو قبول نہیں کرتا۔ میں یہ اِس لیے جانتا ہوں کیونکہ میں اپنے پورے کیریئر میں مین اسٹریم ریپبلکنز کے ساتھ کام کرنے میں کامیاب رہا ہوں۔
لیکن کانگریس میں انتہائی سوچ رکھنے والے ریپبلکنز نے غصے، تشدد، نفرت اور تقسیم کا راستہ اپنا کر پیچھے کی طرف جانے کا انتخاب کیا ہے، لیکن ہمیں ایک مختلف راستہ چننا چاہیے‘‘۔