ٹرمپ کی حماس کو ایک بار پھر وارننگ اور اسرائیل کی حمایت

   

Ferty9 Clinic

فوراً ہتھیار ڈال دیئے جائیں، فلوریڈا میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مشترکہ پریس کانفرنس

واشنگٹن ۔ 30 ڈسمبر (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ملاقات کی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا اور کہا کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ زیادہ تر امور پر اتفاق کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حماس نے اپنے ہتھیار پھینکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ اقدام نہ کیا گیا تو حماس ذمہ دار ہوگی۔ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر حماس ہتھیار پھینکنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی،ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ اگر موقع ملا تو غزہ کے نصف باشندے وہاں سے نکل جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نیتن یاھو صحیح اقدامات کریں گے، تاہم یہ واضح کیا کہ آباد کاروں کے مظالم اور وہاں کے تشدد پر مکمل اتفاق نہیں ہوا۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ لبنان کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ایران کے بارے میں انہوں نے کہا کہ امریکہ مذاکرات کیلئے تیار ہے خاص طور پر ایران کے جوہری مقامات کو تباہ کرنے کے بعد وہ بات چیت کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری صلاحیتیں حاصل کیں تو ہر خطرے کا خاتمہ کیا جائے گا۔شام کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ نیتن یاھو اور شام کے صدر احمد الشرع کے تعلقات بہتر بنائیں گے اور معاملات ٹھیک رہیں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ شام میں اقلیتوں کے تحفظ اور محفوظ سرحدوں کو یقینی بنائیں گے۔ ٹرمپ کیلئے اسرائیل کی جانب نوبل انعام دینے کی حمایت کا بھی اعلان کیا گیا۔ نیتن یاھو نے کہا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو غیر محدود حمایت دی ہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل نیتن یاھو نے امریکی وزیر خارجہ مارکو رو بیو کے ساتھ خطے کی سکیورٹی اور اقتصادی تعاون پر بات کی۔دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطی میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کیلئے تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جو ٹرمپ کے 2020ء کی امن منصوبہ بندی سے ہم آہنگ ہے۔یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب نیتن یاھو پیر کے روز مارا لاگو، فلوریڈا پہنچے، جہاں انہوں نے امریکی صدر سے ان کی قیام گاہ پر ملاقات کی۔یہ نیتن یاھو اور ٹرمپ کے درمیان امریکہ میں پانچویں ملاقات تھی، جب سے ٹرمپ ایک سال قبل وائٹ ہاؤس واپس آئے ہیں۔نیتن یاھو کی یہ آمد فلوریڈا میں کئی سفارتی سرگرمیوں کے بعد ہوئی، جہاں اتوار کو ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کو جنگ بندی مذاکرات کیلئے مدعو کیا تھا۔