واشنگٹن ، 9 جولائی (یو این آئی) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں روس پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کررہا ہوں جو بہت سخت ہوسکتی ہیں میں صدر پوتن سے خوش نہیں ہوں۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں آج دوبارہ اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کروں گا، نیتن یاہوسے غزہ سے متعلق دوبارہ بات ہوگی اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنا چاہتا ہوں۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں روسی صدر پوتن سے خوش نہیں ہوں، میں روس پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کررہا ہوں جو بہت سخت ہوسکتی ہیں، ہم نے یوکرینیوں کو اب تک کے بہترین ہتھیار فراہم کئے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان سے انخلا ملکی تاریخ کا سب سے شرمناک لمحہ تھا، افغانستان میں ہماری بگرام ایئر بیس اب چین چلارہا ہے ۔تمام ممالک کو یکم اگست تک محصولات کی تعمیل کرنی چاہیئے ، یکم اگست سے ٹیرف کے ذریعے آمدنی امریکہ کو موصول ہونا شروع ہوجائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین کی مصنوعات پر امریکی ٹیرف سے متعلق خط جلد یورپی یونین کو بھیجوں گا، ٹیرف سے متعلق تاریخ تبدیل ہرگز نہیں کریں گے
سپریم کورٹ کی ٹرمپ کو ملازمین برطرف کرنے کی دوبارہ اجازت
نیویارک ، 9 جولائی (یو این آئی) امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر سرکاری ملازمین کی چھنٹی اور کئی وفاقی اداروں کے حجم کو چھوٹا کرنے کے منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔عدالت کے اس فیصلے سے ہزاروں لوگوں کی نوکریاں ختم ہوسکتی ہیں۔ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے اہم سرکاری خدمات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔سپریم کورٹ نے منگل کو نچلی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر پر روک لگا دی تھی، جس میں انہوں نے سرکاری اداروں میں لاکھوں وفاقی ملازمین کی چھنٹی پر زور دیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے کہا ‘‘حکومت کے اپنی اس دلیل میں کامیاب ہونے کا قوی امکان ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر اور میمورنڈم درست ہے ۔ اس لیے ، ہم حکومت کی درخواست کو قبول کرتے ہیں۔ ہم آر آئی ایف (بڑے پیمانے پر طاقت میں کمی) اور ایگزیکٹو آرڈر کے تحت تیار یا منظور شدہ کسی ایجنسی کی تنظیم نو کے منصوبے کی درستگی پر کوئی رائے ظاہر نہیں کرتے ۔’’ مسٹر ٹرمپ کے حکم کے بعد انتظامیہ نے امریکی محکموں زراعت، تجارت، صحت اور انسانی خدمات کا محکمہ، ریاست، وزارت خزانہ، سابق فوجیوں کے امور اور کئی دیگر وفاقی ایجنسیوں میں ملازمین کی تعداد کو کم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔