کیف : امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت میں یقین ظاہر کیا ہے کہ یوکرین کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لئے روس کے صدر پوتن اور یوکرین کے صدرزیلنسکی کے ساتھ ایک معاہدہ ہو سکتا ہے۔تاہم، چہارشنبہ کے روز جاری کردہ بیان میں انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ زیلنسکی کے ساتھ معاہدہ اب بھی مشکل ہے اور یہ کہ یوکرین کے رہنما کے ساتھ اتفاق رائے پر پہنچنا پوتن کے مقابلے میں زیادہ دشوار ہے۔دوسری جانب زیلنسکی نے، کریمیا پر روسی قبضے کوتسلیم نہ کرنے کی وجہ سے، یوکرین پر امریکی تنقید کی بھی مخالفت کی ہے۔چہارشنبہ کے روز، صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ زیلنسکی کی کریمیا کو مذاکرات سے باہر رکھنے کی شرط جاری امن مذاکرات کے لیے ‘بہت نقصان دہ’ ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ’کوئی بھی زیلنسکی سے یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ کریمیا کو روسی علاقہ تسلیم کریں۔ لیکن اگر انہیںکریمیا اتنا ہی پیارا ہے توگیارہ سال پہلے انہوں نے بغیر کسی مزاحمت کے اسے روس کے حوالے کیوں کر دیا تھا؟ ‘زیلنسکی نے کیف میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ اس مسئلے پر اب کہنے کو کچھ نہیں رہا کیونکہ یہ ملکی آئین کے خلاف ہے۔انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ‘یوکرین ہمیشہ اپنے آئین کے مطابق عمل کرے گا اور ہمیں پورا یقین ہے کہ امریکہ سمیت ہمارے تمام اتحادی اپنے مضبوط فیصلوں کے مطابق عمل کریں گے۔’