ٹرمپ کے اقدامات عالمی امن کیلئے خطرہ مودی ہر محاذ پر ناکام

   

Ferty9 Clinic

پی چدمبرم، سابق مرکزی وزیر داخلہ
امریکہ کے پانچویں صدر جیمس مونرو James Monroe نے 1823 میں مونرو نظریہ پیش کیا اور اس نظریہ کو پیش ہوئے 200 سال کا عرصہ گذر چکا ہے اور اس کی طاقت اور افادیت کے بارے میں بڑے پیمانہ پر شکوک و شبہات کے باوجود اس نظریہ کو امریکہ کے 47 ویں صدر نے پوری طرح بروئے کار لایا لیکن میرے خیال میں 1823 میں موجودہ صورتحال کا تصور بھی نہیں کیا گیا ہوگا۔ آج صورتحال بہت عجیب و غریب ہے۔ شکوک و شبہات کے باوجود کسی میں بھی ہمت و جرأت نہیں کہ وہ ان خرابیوں اور خامیوں کو بے نقاب کرے اور منظر عام پر لائے۔ صدر جیمس مونرو سے موسوم مذکورہ نظریہ میں یوروپی طاقتوں کو براعظم امریکہ کے نئی آزادیاں حاصل کرنے والے ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کے بارے میں بات کی گئی تھی۔ بہرحال 2 اور 3 جنوری 2026 کی درمیانی شب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس نظریہ کے بنیادی اصولوں یا آداب کو پامال کردیا۔ ٹرمپ نے جنوبی امریکہ کے ایک مقتدر اعلیٰ ملک پر قبضہ کے لئے امریکی فوج کا استعمال کیا۔ اس کے منتخبہ صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار (بلکہ اغوا) کرکے امریکہ منتقل کیا تاکہ ان پر نیویارک کی ایک فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جاسکے (اب وینیزویلا کہ صدر مادورو کو عدالت میں بھی پیش کردیا گیا۔ اگر دیکھا جائے تو ٹرمپ کی ونیزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف کارروائی مونرو نظریہ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینیزویلا کے منتخب صدر کو ان کے ہی ملک میں خصوصی فورس کے ذریعہ کارروائی کرتے ہوئے جس طرح سے امریکہ منتقل کیا۔ عدالت میں پیش کیا اس کے بعد تو اب ایک نئی اصطلاح منظر عام پر لائی جانی چاہئے اور اسے بش ۔ ٹرمپ نظریہ کا نام دیا جانا چاہئے کیونکہ بش اور ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات میں کافی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر 1989 میں اس وقت کے صدر جارج بش نے نیاما میں مداخلت کی۔ جارج بش سینئر کے دور صدارت میں امریکی فوج نے پناما میں مداخلت کرتے ہوئے اس پر قبضہ کیا تھا اور پناما کی فورس کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ نتیجہ میں پناما کے صدر ناریگا کو ویٹکن کے سفارتخانہ میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا اور پھر عملاً انہوں نے خود سپردگی اختیار کی۔ پناما پرر امریکی قبضہ کا مقصد حکومت اور حکمراں کی تبدیلی تھا۔ اس فوجی کارروائی کے ساتھ امریکہ، جنوبی امریکی علاقہ کا Sheriff شیرف بن گیا۔ اب اور آگے چلتے ہیں صدر بش جونیئر نے عراق پر قبضہ کیا اور عراق میں شیرف بنے اور تین امریکی صدور (بش جونیر، اوبامہ اور ٹرمپ) ایک کے بعد دیگرے افغانستان میں شیرف بنے یعنی ان تینوں کے دور صدارت میں امریکہ افغانستان پر قابض رہا۔ عراق (2003) کے معاملہ میں ساری دنیا سے یہ جھوٹ کہا گیا کہ عراق صدام حسین کی قیادت میں بڑے پیمانہ پر عام تباہی کے ہتھیار رکھتا ہے جبکہ افغانستان (2001-2021) کے معاملہ میں دہشت گردی کا ہوا کھڑا کیا گیا اور دنیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ ہم نے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک حصہ کے طور پر اپنی فوج بھیجی ہے جہاں القاعدہ اور طالبان حکومت کے خلاف امریکی فوج نبرد آزما ہوئی اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح طالبان حکومت کو زوال سے دوچار کیا گیا لیکن دونوں جنگوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اب وینیزویلا کے صدر کا تازہ معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ امریکہ نے صدر ونیزویلا مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ اور امریکہ میں منشیات اسمگل کرنے کے سنگین الزامات عائد کئے لیکن ان الزامات کی تائید و حمایت میں ابھی تک کسی قسم کے ثبوت و شواہد پیش نہیں کئے گئے اور نہ ہی عوامی سطح پر ان الزامات کو ثابت کیا جاسکا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وینیزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں مسٹر مادورو کو بَلی کا بکرا بنایا گیا۔ آپ کو بتادیں کہ ونیزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے اور زیادہ خام تیل کے ذخائر موجود ہیں اور وہ تیل کی برآمدات کے معاملہ میں چین کے بہت قریب ہے۔ نہ صرف تیل کی برآمدات میں بلکہ اسلحہ کی درآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں بھی اس کا جھکاؤ چین کی طرف ہے۔ امریکہ نے وینیزویلا میں اقتصادی مفادات کی تکمیل کی کسی بھی ملک خاص طور پر روس اور چین کو اجازت نہ دینے کا تہیہ کرلیا ہے۔ امریکہ کسی بھی صورت میں یہ نہیں چاہتا کہ چین اور روس جیسے ملک ونیزویلا پائی جانے والی تیل کی دولت حاصل کرے بلکہ ٹرمپ کا ایقان ہیکہ وینیزویلا کے تیل اور دوسرے قدرتی وسائل کے ذخائر پر صرف اور صرف امریکہ کا حق ہے ویسے بھی صدر مادورو کو اغواء کئے جانے کے فوری بعد صدر ٹرمپ نے پرزور انداز میں کہا کہ وینیزویلا کے تیل کی پیداوار اور اس کی فروخت کے ساتھ ساتھ تیل کی فروخت کے ذریعہ پیسہ کمانے کی صرف اور صرف امریکی تیل کمپنیوں کو اجازت دی جائے گی۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ چار گھنٹوں کی کارروائی جسے Absolute Resolve کا خفیہ نام دیا گیا تھا دراصل امریکہ کی مسلح افواج کی بے مثال ٹکنالوجی مشنری انٹلی جنس، منصوبہ بندی اور عمل آوری کا مظاہرہ تھی۔ نصف شب کے وقت کسی بھی دوسرے ملک میں داخل ہوکر سخت حفاظتی بندوبست والے صدارتی محل سے صدر کو ان کی اہلیہ کے ساتھ اغوا کرنا اور وہ بھی بغیر کسی نقصان کے ایسی باتیں ہیں جو ہمیں صرف افسانوی اور اساطیری کہانیوں میں ہی ممکن دکھائی دیتی ہیں لیکن امریکہ نے ثابت کردیا ہیکہ اس کی فوج عملی طور پر ایسا کرسکتی ہے۔ امریکی فوج دنیا کی تاریخ کی سب سے طاقتور جنگی مشین ہے خطرناک امر یہ ہے کہ چین کے سوا امریکہ دنیا کا ایک نیا شیرف بننے میں مصروف ہے۔ اب چلتے ہیں ہمارے اپنے ملک انڈیا کی طرف۔ امریکہ نے وینیزویلا کے صدر کو ان کی اہلیہ کے ساتھ اغوا کرنے جو Absolute Resolve نامی فوجی کارروائی شروع کی اس کے شروع اور ختم کرنے کے دوران انڈیا کو بری طرح نظرانداز کردیا۔ مسٹر ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو پہلے ہی دو مرتبہ پشیمان کرچکے ہیں۔ انہوں نے بار بار یہ دعویٰ کیا کہ ہندوستان اور پاکستان کی جنگ انہوں نے ختم کروائی یعنی دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ انہیں (ٹرمپ) کو جاتا ہے۔ دوسرا دعویٰ ٹرمپ نے یہ کیا کہ انہیں خوش کرنے کے لئے ہندوستان روس سے تیل کی درآمدات گھٹا رہا ہے۔ دوسری طرف مودی حکومت ٹرمپ کا کوئی جواب نہیں دے رہی ہے وہ ٹرمپ کے غصہ و برہمی کی زد میں آنے کے خوف میں مبتلا ہے۔ اس وجہ سے حکومت نے سرکاری سطح پر ونیزویلا کے صدر کو امریکہ کی جانب سے اغواء کئے جانے کی مذمت کرنے سے گریز کیا یہاں تک کہ اس میں امریکہ کے کردار کا حوالہ تک نہیں دیا بلکہ یہ مشورہ دیا کہ فریقین مذاکرات کے ذریعہ مسائل کا پرامن حل نکالیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہماری حکومت فٹبال میچ میں کئے گئے گول پر تنازعہ پیدا ہونے پر کونسلنگ کررہی ہو۔ اس مسئلہ پر ہندوستان BRICS کے 5 بانی ممالک اور یوروپ سے الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔ وشوا گرو ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود ہندوستان عالمی سطح پر اپنی آواز اپنی اہمیت سے محروم ہو رہا ہے۔ ایک سابق ہندوستانی سفیر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ہندوستان کے آواز اٹھانے پر بھی اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔