قاہرہ ؍ واشنگٹن ۔ 14 اکٹوبر (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایلچی اور حماس کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک غیر معمولی ملاقات نے غزہ میں امن معاہدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔باوثوق ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ چہارشنبہ 8 اکتوبر کوسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو مطلع کیا گیا کہ انہیں حماس کے رہنماؤں سے ذاتی طور پر ملاقات کرنی ہوگی اور انہیں براہ راست یقین دلانا ہوگا کہ جب تک تحریک حماس اپنے وعدوں پر قائم رہے گی ٹرمپ معاہدے کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ایک دن پہلے ٹرمپ نے وٹکوف اور کشنر کو خصوصی اجازت دی تھی کہ اگر وہ سمجھوتہ طے کرنے کیلئے ضروری ہو تو حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کرلیں۔ یہ بات مصر روانگی سے قبل اوول آفس میں ان کی ملاقات کے دوران کی گئی تھی۔ شرم الشیخ پہنچنے کے بعد وٹکوف نے قطری، مصری اور ترکیہ کے ثالثوں کو ٹرمپ کی منظوری سے آگاہ کیا۔ چہارشنبہ کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً گیارہ بجے قطری ثالث وٹکوف کی رہائش گاہ پر پہنچے، انہیں تعطل کا شکار ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا اور امریکی سفیروں سے پوچھا کہ کیا وہ حماس سے ملاقات کیلئے تیار ہیں۔ ایک سینئر قطری عہدیدار نے وِٹکوف کو بتایا کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر آپ ان سے ملیں گے اور ان سے مصافحہ کریں گے تو ایک معاہدہ ہو جائے گا۔ چند منٹ بعد وٹکوف اور کشنر بحیرہ احمر کے ایک دوسرے ولا میں داخل ہوئے۔ اس کے اندر مصری اور ترک انٹیلی جنس کے سربراہان، قطری حکام اور حماس کے چار سینئر رہنما مذاکرات میں شامل تھے۔ خلیل الحیہ، جو تین ہفتے قبل دوحہ میں ایک اسرائیلی قاتلانہ حملے میں بچ گئے تھے، حماس کی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔ تقریباً 45 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں وِٹکوف نے حماس کے عہدیداروں کو بتایا کہ اسرائیلی یرغمالی حماس کیلئے اب اثاثے سے زیادہ بوجھ بن گئے ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ معاہدہ کے پہلے مرحلے کو آگے بڑھایا جائے اور سرحد کے دونوں طرف قیدیوں کو ان کے گھروں کو واپس بھیج دیا جائے۔