ٹرمپ کے خطاب کے فوری بعد اسرائیل میں ایرانی میزائل حملہ

   

تل ابیب ۔ 2 اپریل (ایجنسیز) اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام آج جمعرات کو ایرانی میزائل حملے کا مقابلہ کر رہا ہے۔ یہ حملہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بارے میں قوم سے خطاب کے کچھ ہی دیر بعد کیا گیا۔فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صرف تین گھنٹے کے دوران تیسری بار ایران سے اسرائیلی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائلوں کا سراغ لگایا گیا ہے، مزید یہ کہ دفاعی نظام خطرے کو روکنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ہوم فرنٹ کمانڈ کے مطابق شمالی اسرائیل کے تمام علاقوں میں سائرن بج اٹھے، تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اس سے قبل العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے جنوبی اسرائیل میں سائرن بجنے اور ایران سے اسرائیلی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائلوں کی نشان دہی کی اطلاع دی تھی، جبکہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان میزائلوں کو روکنے پر کام کر رہی ہے۔ایرانی ٹیلی ویڑن کے مطابق اسرائیل کی جانب میزائلوں کی نئی کھیپ داغی گئی ہے، جس کے ساتھ ہی تل ابیب اور ملک کے وسطی حصوں کے متعدد علاقوں میں سائرن بجنے لگے۔ اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ میزائل گرنے کے نتیجے میں بنی براک شہر میں ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے، اور تل ابیب کے اندرونی علاقوں میں کلسٹر میزائل کے ٹکڑے گرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے تل ابیب میں میزائلوں کا ملبہ گرنے کی اطلاعات موصول ہونے کا اعلان کیا، جبکہ رپورٹس میں وسطی اور شمالی اسرائیل کی جانب ایران اور حزب اللہ کے مشترکہ حملے کا بتایا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تل ابیب کے اندر 11 مقامات پر کلسٹر میزائل کے ٹکڑے گرے جس سے مالی نقصان ہوا، اس دوران بنی براک میں پانی کا نیٹ ورک متاثر ہوا۔