دورہ محض امریکی تجارت کو فروغ دینے کی کوشش،سامنا کا اداریہ
ممبئی ۔ 24 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورۂ ہند کے موقع پر شیوسینا نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 36 گھنٹوں کا دورہ کر کے ٹرمپ ہندوستان کی تقدیر نہیں بدل سکتے اور ہندوستانی غریبوں اور مڈل کلاس لوگوں کی طرز زندگی میں کوئی فرق پڑنے والا نہیں ۔ یاد رہے کہ جس وقت ٹرمپ امریکہ سے ہندوستان کیلئے روانہ ہورہے تھے ، اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ وہ نریندر مودی کے ساتھ تجارت پر بات چیت کریں گے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ کا دورہ امریکی تجارت کو مزید فروغ دینے کی نیت سے کیا جارہا ہے ۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا کے اداریہ میں تحریر کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے دورہ سے ہندوستان کے غریبوں اور مڈل کلاس افراد کو کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے تو پھر یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ ٹرمپ کے دورہ کا ہندوستانی عوام کو بے چینی سے انتظار ہے۔ اگر کہیں کچھ جوش و خروش ہے تو وہ صرف احمد آباد میں ہے جہاں ٹرمپ امریکہ سے راستہ طورپر پہنچیں گے ۔ اداریہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے دورہ سے زیادہ غریبوں کی جھونپڑیوں کو چھپانے کے لئے تعمیر کی گئی دیوار زیادہ موضوع بحث رہی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جب مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تھاتو اس وقت وہاں پر ’’ہاؤڈی۔مودی‘‘ کے عنوان سے ایک زبردست جلسہ کا اہتمام کیا گیا تھا، جہاں مودی نے امریکی عوام سے یہ اپیل بھی کی تھی کہ وہ نومبر 2020 ء کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کو ایک بار پھر کامیاب بناکر انہیں امریکی صدر کے جلیل القدر عہدہ پر ایک بار پھر فائز کریں۔ اس سے بعض حلقوں میں یہ بھی کہا گیا کہ مودی ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے آئے ہیں۔
