جدہ : جمعہ کے روز ہوئے ایک ہنگامی اجلاس میں مسلم دنیا سے کہا جا رہا کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ زدہ غزہ پر قبضے کی تجویز پر عرب ممالک کے جوابی منصوبے کی حمایت کرے۔ عرب لیگ کی جانب سے غزہ کے لیے مصر کے متبادل منصوبے کی منظوری کے تین روز بعد 57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا اجلاس سعودی عرب کے شہر جدہ میں او آئی سی کے صدر دفتر میں ہو رہا ہے۔ منگل کو قاہرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں عرب رہنماؤں نے مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کی مجوزہ انتظامیہ کے تحت غزہ پٹی کی تعمیر نو کی تجویز کی حمایت کی تھی۔ تاہم اس منصوبہ میں غزہ کو کنٹرول کرنے والی عسکریت پسند تنظیم حماس کے کردار کا خاکہ پیش نہیں کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کو امریکہ اور اسرائیل دونوں نے مسترد کر دیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے جمعرات چھ مارچ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ تجویز واشنگٹن کی توقعات پر پورا نہیں اترتی۔ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اس پر زیادہ مثبت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مصریوں کی جانب سے نیک نیتی سے اٹھایا گیا پہلا قدم قرار دیا تھا۔ ٹرمپ کی اس تجویز پر عالمی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ غزہ پٹی پر قبضہ کر کے اسے مشرق وسطیٰ کا ریویرا بنا دے گا، جبکہ اس کے فلسطینی باشندوں کو مصر یا اردن منتقل کر دے گا۔ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ ان کا ملک، جو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں ثالث بھی رہا ہے، او آئی سی کی حمایت حاصل کرے گا تاکہ جوابی تجویز کو عرب منصوبہ اور اسلامی منصوبہ بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ او آئی سی کی جانب سے توثیق کم از کم ٹرمپ کی تجویز کی مسلم ممالک کی متحدہ مخالفت کی نشاندہی کرے گی۔
قاہرہ میں الاحرام سینٹر فار پولیٹیکل اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی رابحہ سیف علام کا کہنا ہے کہ مصر کو اپنے منصوبہ کے لیے وسیع حمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا وسیع اتحاد بنانے کی کوشش ہے جو غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے خلاف ہو۔