واشنگٹن۔ 31 مارچ (ایجنسیز) وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ تہران علانیہ طور پر جو کہتا ہے وہ ان باتوں سے مختلف ہے جو بند کمرہ ملاقاتوں میں امریکی حکام کو بتائی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے نجی ملاقاتوں میں واشنگٹن کی جانب سے پیش کیے گئے بعض نکات پر اتفاق کر لیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران نجی ملاقاتوں میں واشنگٹن سے جو بھی وعدے کرے گا انہیں آزمایا جائے گا اور امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تہران اپنے وعدوں کی پاسداری کیلئے جوابدہ ہو۔پریس بریفنگ کے دوران لیویٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران نے نجی مذاکرات میں بعض امریکی نکات کو تسلیم کر لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی مقرر کردہ 6 اپریل کی مہلت ختم ہونے سے قبل کسی نتیجے یا معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے وضاحت کی کہ ایران کے ساتھ جنگ کا ٹائم فریم اب بھی برقرار ہے جو کہ چار سے چھ ہفتوں کے درمیان ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو ایرانی پاور پلانٹس اور تیل کے کنوؤں کو تباہ کر دیا جائے گا۔ یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی جب ایران نے امریکی امن تجاویز کو ’’غیرحقیقت پسندانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر میزائلوں کی بوچھاڑ کی تھی۔ایک اور سیاق میں لیویٹ نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے گذرنے والے جہازوں پر ایران کی جانب سے ٹیکس عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا۔
انہوں نے مزید کہا: ”ہمیں توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں 20 تیل بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گذریں گے”