مرکزی حکومت سے موٹر وہیکل قانون میں ترمیم کے بعد عمل آوری
حیدرآباد۔یکم،ستمبر (سیاست نیوز)اب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری چالانات عائد کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور حکومت ہند کی جانب سے موٹر وہیکل ایکٹ میں ترمیم کے بعد کئے گئے اضافہ پر آج سے عمل آوری کئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا اور کہا جار ہاہے کہ اب محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے چالان کی نئی رقومات وصول کی جائیں گی۔مرکزی حکومت نے ملک کی تمام ریاستوں کو یکم ستمبر سے نئے چالانات کی وصولی کا اعلان کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور اسی کے مطابق ریاست تلنگانہ میں بھی محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے ریاست میں شعور بیداری مہم چلائی جانے لگی تھی اور آج تک بھی شعور بیداری کا سلسلہ جاری ہے ۔ حکومت کی جانب سے چالانات کی رقومات کے اضافہ پر عوام کا ملا جلا ردعمل ہے لیکن بڑی تعداد کا کہناہے کہ یکم ستمبر سے جب حکومت نے چالانات کی نئی شرحیں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو حکومت کو چاہئے کہ 31اگسٹ تک کے تمام چالانا ت کو معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو قانون کی مکمل پاسداری کا موقع فراہم کرے۔تلنگانہ کے بیشتر تمام اضلاع میں کئی گاڑیوں پر ہزاروں روپئے کے چالانات موجود ہیں اور موٹر سیکل اور کاروں کے مالکین اس بات سے واقف بھی ہیں کہ ان کی گاڑیوں پر کتنے چالان ہیں لیکن مختلف وجوہات کی بناء پر وہ اب تک ان چالانات کی رقومات ادا نہیں کر پائے ہیں اور حکومت اور محکمہ ٹریفک پولیس کے لئے یہ زرین موقع ہے کہ وہ ان چالانات کی رقومات کو معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نئے قانو ن کے متعلق شعور اجاگر کرنے کی مہم چلائے کیونکہ جب شہریوں کے چالان معاف کرتے ہوئے انہیں یہ تاثر دیا جائے گا کہ ان کی اب تک کی غلطیوں کو معاف کردیا گیا ہے اور اب جو غلطی ہوگی وہ چالان نئی شرح کے مطابق کیا جائے گا تو ان میں حکومت کے ساتھ ہمدردی اور نئے چالان کا خوف دونوں بھی ہوگا کیونکہ حکومت اور محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے سابقہ چالانات جو معاف کئے جائیں گے وہ ان کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ شہر حیدرآباد کے نوجوانوں اور بزرگ شہریوں کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے خوف اب نظر آرہے ہیں اور لوگ ہیلمٹ کی خریدی کیلئے امڈ رہے ہیں ایسے میں اگر محکمہ پولیس کی جانب سے سابق میں کئے گئے چالانات کو معاف کرتے ہوئے شہریوں کو سدھرنے کا ایک موقع فراہم کرنے کا اعلان کرتی ہے تو اس سے محکمہ ٹریفک پولیس کو بھی شہری عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگیں گے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ چالانات کو معاف کرنے کا فیصلہ کرنے کیلئے حکومت سے اجازت حاصل کرنی پڑتی ہے لیکن اگر محکمہ ٹریفک پولیس کے اعلی عہدیدارو ںکی جانب سے اپنے طور پر فیصلہ کیا جاتا ہے تو چالانات کی جملہ رقم میں 50 فیصد کی رعایت دینے کے متعلق فیصلہ ممکن ہے ۔ ریاستی حکومت اور محکمہ داخلہ کی جانب سے اگر 31اگسٹ تک کے چالانات معاف کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے شہریوں کو راحت فراہم کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صور ت میں اب تک ٹریفک قوانین کو پامال کرنے والوں کو بھی اس بات کا احساس پیدا ہوگا کہ حکومت ان کے ساتھ طالمانہ سلوک نہیں کر رہی ہے بلکہ ان کے اپنے فائدہ کے لئے ہی حکومت کی جانب سے سخت گیر فیصلے کئے جا رہے ہیں۔