ٹریفک نظام درہم برہم ‘ پارکنگ ہر جگہ اور ہر گلی

,

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ۔ /4 جنوری (سیاست نیوز) آج ملین مارچ کے نتیجہ میں شہر کی تمام سڑکوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا ۔ عوام نے ٹریفک پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھائے ۔ چونکہ ملین مارچ میں لاکھوں کی تعداد میں عوام کی شرکت کے اعلان کے باوجود ٹریفک ونگ کی جانب سے نہ کوئی اڈوائزری جاری کی گئی اور نہ کوئی حکمت عملی تیار کی گئی ۔ پولیس نے یہ سمجھا تھا کہ دھرنا چوک پر ملین مارچ صرف اندرا پارک اور اطراف علاقوں تک ہی محدود رہے گی لیکن 2 بجے کے بعد سے عوام کی کثرت سے مارچ میں شامل ہونے سڑکوں پر موجود ہونے سے ٹریفک متاثر ہوگئی ۔ شہر کے اہم سڑکیں سروں کے سمندر میں تبدیل ہوگئی اور اس ملین مارچ میں شامل افراد نے سڑکوں پر اپنی گاڑیاں پارک کرکے چھوڑدی تھی ۔ شہر کے سب میں بڑے تلگو تلی فلائی اوور ، بشیر باغ فلائی اوور ، مہدی پٹنم فلائی اوور پر ٹریفک کا بہاؤ مکمل ٹھپ ہوگیا تھا اور ان فلائی اوورس پر عوام نے ہاتھوں میں ترنگے تھامے ہوئے ملین مارچ کیلئے آگے بڑھتے رہے ۔ ٹریفک کا برا حال ہونے کے باوجود ٹریفک عملہ سڑک پر نہیں دکھائی دیا اور مجبوراً لا اینڈ آرڈر پولیس ٹریفک کو بھی سنبھالنے پر مجبور ہوگئی تھی ۔ ٹریفک کے بہاؤ میں آج دوپہر سے شام 8 بجے تک خلل تھا اور مجبوراً حیدرآباد پولیس نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ عوام کو یہ آگاہ کیا کہ ٹینک بینڈ ، اندرا پارک ، بشیر باغ اور حمایت نگر جانے والے افراد متبادل راستے اختیار کریں ۔ ٹریفک کی بری صورتحال کے نتیجہ میں ٹریفک پولیس عہدیدار بے بس نظر آئے اور اپنے وائرلیس سیٹ پر مسلسل ٹریفک عملہ کو ٹریفک کے بہاؤ کو باقاعدہ بنانے کیلئے ہدایت دیتے رہے لیکن عوام کا ہجوم بے تحاشہ ہونے کے نتیجہ میں ٹریفک پولیس عملہ بھی ناکام ہوگیا ۔