انتخابات سے قبل 50 فیصد رعایت کا وعدہ
اب نئی تجویز عوام کو اشتعال دلانے کے مترادف
حیدرآباد13 جنوری (سیاست نیوز ) بی آر ایس ایم ایل سی داسوجو شراون نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ٹریفک چالانات کی رقم براہ راست بینک کھاتوں سے آٹو ڈیبٹ وصول کرنے چیف منسٹر کی تجویز کو غیر آئینی اور اشتعال انگیز قرار دیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے شراون نے کہا کہ چیف منسٹر کے الفاظ محض بیان نہیں بلکہ حکم کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لئے انہیں قانونی، آئینی اور مستقل بنیادوں پر ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر جیسے عہدے پر فائز شخص کو غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا ذیب نہیں دیتا اس طرح کے بچکانی بیانات دیتے ہوئے وہ خود اپنے وقار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ شراون نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ریونت ریڈی جوکر کی طرح بات کیوں کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا چیف منسٹر مغرور ہیں یا جاہل ہیں، یا پھر معصوم یہ وہ خود بھی نہیں جانتے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ریونت ریڈی نے اقتدار پانے سے قبل ٹریفک چالانات پر 50 فیصد رعایت کا وعدہ کیا تھا لیکن اب آٹو ڈیبٹ کے ذریعہ براہ راست وصولی کی بات کرنا عوام کو اشتعال دلانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس فیصلے سے بدعنوانی اور عوام کے استحصال کا دروازہ کھل جائے گا۔ شراون نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے فیصلے عوام پر زبردستی تھوپنے سے قبل دستوری تقاضوں عوامی مفاد اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھے۔ 2
