حیدرآباد۔ 2 جنوری (سیاست نیوز) مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے حکومت سے دریافت کیا کہ حیدرآباد میں ٹریفک پولیس کی جانب سے چکینگ کرتے ہوئے ٹریفک قواعد کی خلاف ورزیوں کے نام پر بڑے پیمانے پر چالانات ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت سے استفسار کیا کہ چالانات کی شکل میں جو پیسہ عوام سے وصول کیا جارہا ہے وہ کہاں جارہا ہے۔ کیا اس سے ٹریفک سگنل نصب کئے جارہے ہیں، سی سی کیمرے لگائے جارہے ہیں، کہاں استعمال کیا جارہا ہے بتانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تھوڑی سی بارش سے ٹریفک جام ہو جاتی ہے، شہر حیدرآباد میں سڑکوں کا نظام ٹھیک نہیں ہے، گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، پارکنگ کے لئے جگہ نہیں ہے جس کے نتیجہ میں لوگ گھروں کے باہر گاڑیاں پارک کررہے ہیں جس سے سڑک چھوٹی ہونے کی وجہ سے گاڑیاں چلانا مشکل ہوتے جارہا ہے۔ آر ٹی اے کی جانب سے مناسب ٹسٹ کے بغیر گاڑی چلانے کے لائسنس جاری کئے جارہے ہیں، آلودگی کی شرح تشویشناک صورتحال اختیار کررہی ہے، شہر کے مختلف مقامات کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے، شہر اور مضافات میں ٹیلی فون ٹاورس کی بھرمار سے خان چوڑی کا وجود ختم ہو گیا ہے، ہم ہمارے بچپن میں خان چوڑی دیکھا کرتے تھے۔ اکبر الدین اویسی نے سڑکوں پر کبوتروں کو دانا ڈالنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لوگوں کی صحت خراب ہو رہی ہے۔ سانس کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر لوگوں کو کبوتروں سے ہمدردی ہے تو وہ اپنے گھروں کے چھتوں پر کبوتروں کو دانا ڈالیں سڑکوں پر ہرگز نہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے کتوں کا بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کتے لوگوں کو بالخصوص بچوں کو کاٹ کر زخمی کررہے ہیں۔ کچرے کی عدم نکاسی سے مچھروں کی افزائش ہو رہی ہے۔ شہر کے کئی مقامات پر اسٹریٹ لائٹس نہیں ہیں۔ حکومت شہر حیدرآباد کو توسیع دینے سے قبل ان بنیادی مسائل کو حل کرتے ہوئے حیدرآباد کے برانڈ امیج کو بچائے۔ حکومت کی جانب سے ان مسائل کو نظرانداز کرنے پر حیدرآباد کا برانڈ تباہ ہو رہا ہے۔ اکبر الدین اویسی نے عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم پر توجہ دینے اور جو مسئلہ عدلیہ میں زیر التواء ہے، قانونی ٹیم سے مشاورت کرتے ہوئے اس کو فوری حل کرانے کا مطالبہ کیا۔ اس سے بلدیہ کی آمدنی میں اضافہ کا دعویٰ کیا غریب عوام کو جرمانوں سے استثنیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ 2
