احتیاط بہت اہم ہوتی ہے
ای ۔ والیٹس میں رقم رکھنے یا انہیں بینک اکاونٹ سے مربوط کرنے کے بجائے بینکس کے یو پی آئی اپلیکیشنس کا استعمال کریں
l سوشیل نیٹ ورکنگ سائٹس یا اجنبی لوگوں سے بات کرتے وقت شخصی تفصیلات نہ بتائیں
l کلاسیفائیڈس ویب سائیٹس سے ڈیلنگ کرتے وقت کسی QR کوڈ کو اسکین نہ کریں ۔
بدنیتی کی سرگرمیوں کے بارے میں فوری پولیس اور آپ کے بینک کو اطلاع دیں ۔۔
حیدرآباد ۔ 3 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : سائبر دھوکہ دہی اور سائبر جرائم میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ کئی طرح سے عام زندگی میں خلل ہورہا ہے جب کہ قانون پر عمل درآمد اور اس کا نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے اس طرح کے جرائم کی روک تھام اور ان کا تدارک کرنے کے لیے ٹرینڈ پروفیشنلس کی خدمات حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑرہا ہے ۔ ٹرینڈ سیکوریٹی پروفیشنلس کی قلت کی وجہ بعض اداروں بشمول جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی حیدرآباد نے سائبر سیکوریٹی میں کورسیس شروع کئے ہیں ۔ اس یونیورسٹی نے گذشتہ سال ایک فل ٹائم چار سالہ انڈر گرایجویٹ کورس بی ٹیک ( سی ایس ای ۔ سائبر سیکوریٹی ) شروع کیا ہے ۔ یونیورسٹی کی جانب سے یہ کورس کیوں شروع کیا گیا اس کے بارے میں بتاتے ہوئے جے این ٹی یو ۔ ایچ کے ریکٹر ڈاکٹر اے گوردھن نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سائبر جرائم میں اضافہ ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے نوجوان پروفیشنلس کو ٹریننگ دینے کی فوری ضرورت ہے ۔ اگرچیکہ JNTU نے گذشتہ تعلیمی سال میں بی ٹیک ( سی ایس ای ۔ سائبر سیکوریٹی ) کورس شروع کیا ، ہم نہ صرف سی ایس ای بیاچ بلکہ انجینئرنگ کے ہر اسٹریم کے طلبہ کے لیے لازمی ٹریننگ دے رہے ہیں ۔ ہمارے فیکلٹی ممبرس کے لیے بھی ایک ان ڈیپتھ ٹریننگ پروگرام ہے ۔ ہم نے اپنی نوعیت کے پہلے آن لائن انٹرن شپ کا بھی آغاز کیا ہے ۔ جہاں ہمارے طلبہ کو انڈسٹری کے ماہرین ضروری ٹریننگ دیں گے ۔ سندیپ مودلکر ، سی ای او ، سیٹیک لیابس پرائیوٹ لمٹیڈ نے اس احساس کا اظہار کیا کہ سائبر سیکوریٹی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ ورک فورس کو مامور کرنا اشد ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیلڈ بڑھ رہی ہے اور جرائم کا ارتکاب کرنے والے نئے طریقوں سے جرائم میں ملوث ہورہے ہیں ۔ کئی اوقات ایسا ہوتا ہے کہ پولیس ملازمین ان کے مصروف شیڈول کی وجہ بعض سیشنس پر توجہ نہیں دے پاتے ہیں ۔ وائی کرشنا سکریٹری سوسائٹی فار سائبر آباد سیکوریٹی کونسل کا کہنا ہے کہ سائبر دنیا میں روایتی جرائم میں ہورہے اضافہ اور اس کے بڑھتے ہوئے خطرات اور مضر اثرات کی وجہ یہ بہت ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرس اس کے تدارک کے لیے ایک ساتھ ہو کر اقدامات کریں ۔ جیسے شہریوں میں اس تعلق سے بیداری پیدا کرنا ۔ انہوں نے کہا کہ سوسائٹی تلنگانہ پولیس کے ساتھ کام کررہی ہے تاکہ ایک فریم ورک بنایا جائے اور ریسرچ کے لیے ایک فوکس گروپ بنایا جائے ۔۔