ٹسٹ چمپئن شپ میں تبدیلی پر غور،ہندوستان کو کوئی خطرہ نہیں

   

نئی دہلی۔28 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )بین الاقوامی کرکٹ کونسل کرونا وائرس وبا کی وجہ سے عالمی ٹسٹ چمپئن شپ کے میچ پورے کروانے کے لئے اسے چار ماہ آگے بڑھانے اور اس پروگرام میں تبدیلی کرنے پر غور کر رہا ہے لیکن اس سے ہندوستان پر اثر نہیں پڑے گا اور وہ آگے بھی اس میں اپنے پہلے مقام پر ہو سکتا ہے۔ہندوستان نے ڈبلیو ٹی سی میں ابھی تک سب سے زیادہ چار سیریز کھیلی ہیں جس سے تین میں اس نے جیت درج کی۔ اس سے اس کے 360 نشانات ہیں ۔ آسٹریلیا تین سیریز میں296 پوائنٹس لے کر دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ نیوزی لینڈ (تین سیریز میں 180) تیسری، انگلینڈ (2 سیریز میں 146) چوتھی اور پاکستان (دو سیریز میں 140) پانچویں مقام پر ہے۔پوائنٹس ٹیبل میں ان کے بعد سری لنکا (دو سیریز میں 80) اور جنوبی افریقہ (دو سیریز میں 24) کا نمبر آتا ہے۔ ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش نے ڈبلیو ٹی سی کے تحت ایک ایک سیریز کھیلی ہے اور وہ ابھی تک کھاتہ نہیں کھول پائے ہیں۔ آئی سی سی کے مطابق ڈبلیوٹی سی کے تحت کسی ایک ملک کو چھ سیریز (تین وطن، تین بیرون ملک) کھیلنی ہوتی ہیں۔ ہندوستان دو سیریز بیرون ملک اور دو وطن میں کھیل چکا ہے۔ یہ تمام سیریز دو یا تین ٹسٹ میچوں کی تھی، جن میں جیتنے پر ہندوستانی ٹیم کو پورے پوائنٹس مل گئے۔
عالمی ٹسٹ چمپئن شپ میں ایک سیریز میں زیادہ سے زیادہ 120 پوائنٹس حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس طرح سے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک میچ جیتنے پر 60 پوائنٹس اور تین میچوں کی سیریز میں ایک میچ جیتنے پر 40 پوائنٹس ملتے ہیں۔ اسی طرح سے چار اور پانچ میچوں کی سیریز میں ایک میچ جیتنے پر پوائنٹس کی تعداد گھٹ کر30 اور 24 ہو جاتی ہے۔میچ ٹائی ہونے پر دونوں ٹیموں میں نصف نصف پوائنٹس تقسیم ہو جاتے ہیں، جبکہ ڈرا ہونے پر دو سے لے کر 5 میچوں کی سیریز میں بالترتیب 20، 13، 10 اور 8 پوائنٹس ملتے ہیں۔ ہندوستان نے ڈبلیو ٹی سی کے تحت پہلی سیریز ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی اور اس نے دونوں میچ جیت کر 120 پوائنٹس حاصل کئے۔وراٹ کوہلی کی ٹیم نے اس کے بعد جنوبی افریقہ کو اپنی سرزمین پر تینوں میچ میں شکست دی۔