سنچورین۔ ہندوستان کے زبردست فاسٹ بولنگ شعبہ کی کامیابی کا سہرا ہر کھلاڑی کو جانا چاہئے، جنہوں نے گزشتہ 6-7 سالوں میں تمام سخت محنت کی ہے۔ محمدسمیع جن کی پانچ وکٹیں لے کر ہندوستان منگل کو یہاں سوپر اسپورٹ پارک میں تین میچوں کی سیریز کے پہلے ٹسٹ کے تیسرے دن جنوبی افریقہ کے خلاف مستحکم موقف حاصل کیا۔31 سالہ محمد سمیع نے شانداربولنگ کی اور پانچ وکٹ (5/44) لیے، جس سے ہندوستان نے جنوبی افریقہ کو کم اسکور پر آؤٹ کرد یا۔ یہ ٹسٹ میں ان کی 6ویں پانچ وکٹیں تھیں۔اپنے شاندار مظاہرہ کے ضمن میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمد سمیع نے کہا کہ ٹیم کا فاسٹ بولنگ شعبہ کافی زبردست ہے کیونکہ ہر ایک رکن نے سخت محنت کی ہے اور یہ سب کچھ اپنی سراسر محنت سے حاصل کیا ہے۔ پچھلے 6-7 سالوں میں کام کیا اور اپنی سخت محنت کا وہ یہاں اپنے طور پرانعام پایا ہے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ ہاں، کامیابی کا سہرا معاون عملہ کو بھی جاتا ہے۔ وہ آپ کی مہارت کو مزید نکھارتے ہیں لیکن یہ مناسب نہیں کہ آپ کوئی خاص نام لیں۔ آپ کو یہ دیکھنا چاہئے کہ ان ساتھی کھلاڑیوں نے کس قسم کی کوشش کی ہے اور میں ان ساتھیوں کو کامیابی کا سہرا دیتا ہوں جنہوں نے ٹیم میں شمولیت اختیار کی ہے۔محمد سمیع 200 وکٹوں کا ذاتی سنگ میل حاصل کرلیا ہے۔ اب وہ اپنے 55ویں ٹسٹ میچ میں یہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے تاریخی مقام تک پہنچنے والے ہندوستانی فاسٹ بولروں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ مجموعی طور پر وہ 200 یا اس سے زیادہ وکٹیں لینے والے 11ویں ہندوستانی بولر ہیں اور یہ سنگ میل عبور کرنے والے صرف پانچویں فاسٹ بولر ہیں۔سمیع اس وقت کپل دیو (434)، ایشانت شرما (311)، ظہیر خان (311) اور جواگل سری ناتھ (236) سے پیچھے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے کبھی 200 ٹسٹ وکٹیں لینے کا خواب دیکھا ہے، محمد سمیع نے کہا کہ وہ صرف محنت کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور نتائج اس عمل کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کوئی بھی کبھی یہ خواب نہیں دیکھ سکتا کہ وہ آخر کار کیا حاصل کر سکتا ہے جب آپ صفوں میں آ رہے ہوں گے اور کامیابی کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں گے تو ریکارڈ خود بخود بن جاتے ہیں۔ آپ کا خواب ہندوستان کے کھلاڑی بننا اور ان کے ساتھ کھیلنا ہے جنہیں آپ نے ٹی وی پر دیکھا ہے۔
میں ایک ایسے گاؤں سے ہوں جہاں آج بھی کوئی سہولت نہیں: محمد سمیع
سنچورین ۔ ہندوستانی فاسٹ بولر محمد سمیع نے ٹسٹ کرکٹر کے طور پر اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والد اور اپنے بھائی کے سر باندھا ہے ۔سمیع کا تعلق اتر پردیش کے امروہہ ضلع کے ایک گاؤں سہس پور علی نگر سے ہے اور انہوں نے کہا کہ ان کی افراد خاندان نے ان کی بہت حوصلہ افزائی کی تھی جس کی وجہ سے وہ کرکٹ کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے اور بالآخر 200 ٹسٹ وکٹیں لینے والے پانچویں ہندوستانی فاسٹ بولر بن گئے ۔ انہوں نے یہ کارنامہ سنچورین ٹسٹ کے تیسرے دن انجام دیا۔سمیع نے جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں لے کر یہ سنگ میل عبور کیا۔ پریس کانفرنس میں سمیع نے کہا کہ میں نے میڈیا میں کئی بارکہا ہے کہ میں اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والد کو دینا چاہتا ہوں۔ میں ایک ایسے گاؤں سے آیا ہوں جہاں آج بھی سہولیات نہیں ہیں۔ والد بار بار مجھے کھیلنے کے لیے وہاں سے 30 کلومیٹر کا سفر کرنے کی ترغیب دیتے اور کبھی کبھی میرے ساتھ بھی جاتے تھے ۔ وہ ہر جدوجہد میں میرے ساتھ رہے ، میں ہمیشہ اپنے والد اور بھائی کو سہرا دیتا ہوں جنہوں نے میری حمایت کی اور اس ان حالات میں میرا ساتھ دیا ۔ میں آج یہاں صرف ان ہی کی بدولت ہوں۔ سمیع ان فاسٹ بولروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ٹیم کو ایک نئی سمت دی ہے اور جس کی وجہ سے ٹیم پوری دنیا میں مستقل طور پر ٹسٹ جیتنے میں کامیاب رہتی ہے ۔