ڈیزل کی قیمت میں اضافہ سے قیمتوں پر اثر ، قیمت پر قابو پانے حکومت کے احکامات کا انتظار
حیدرآباد۔بازار میں ٹماٹر کی قیمتو ںمیں زبردست اچھال ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور شہر کے تمام رعیتو بازاروں اور منڈیوں میں ٹماٹر کی قیمت 50 روپئے تک پہنچ چکی ہے ۔ محکمہ زراعت کے عہدیداروں کا کہناہے کہ آئندہ دنوں میں ٹماٹر کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔لاک ڈاؤن سے قبل جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس وقت ٹماٹر کی قیمت میں اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور کئی مقامات پر ٹماٹر کی قیمتیں 60تا70 روپئے تک پہنچ چکی تھیں لیکن لاک ڈاؤن پر عمل آوری کے آغاز کے ساتھ ہی ٹماٹر کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی اور کئی مقامات پر ٹماٹر 5تا 10 روپئے کیلو فروخت کئے گئے اور شہر کے نواحی علاقوں اور پڑوسی اضلاع سے لائے جانے والے ٹماٹر کو سڑکوں پر پھینک دیا جانے لگا تھا کیونکہ کسان جو ٹماٹر شہر لارہے تھے انہیں آمد و رفت کے خرچ بھی نہیں نکل پا رہے تھے لیکن گذشتہ ایک ہفتہ سے شہر حیدرآباد میں ٹماٹر کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیاجانے لگا ہے اور اس کی بنیادی وجہ پیداوار میں قلت کے علاوہ شہر میں پڑوسی ریاستوں سے ٹماٹر لایا جانا بتائی جا رہی ہے۔دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں کئی مقامات پر ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ کے سلسلہ میں کہا جا رہا ہے کہ پڑوسی ریاستوں مہارشٹرا‘ آندھراپردیش کے علاوہ کرناٹک سے ٹماٹر شہر پہنچ رہا ہے اسی لئے قیمتوں میں بھاری اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے۔محکمہ زراعت کے عہدیداروں کا کہناہے کہ ریاست میں ہونے والی ٹماٹر کی پیداوار طلب کو پورا نہیں کرپارہی ہے اسی لئے پڑوسی ریاستوں سے ٹماٹر لائے جانے لگے ہیں اور تلنگانہ میں ہونے و الی پیداوار ملک کی دیگر ریاستوں کو بھی پہنچ رہی ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ ملک میں تیل کی قیمتوں بالخصوص ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے اثرات بھی ان اشیاء پر پڑرہے ہیں جو دیگر ریاستوں سے شہر پہنچ رہی ہیں۔ٹماٹر کی ٹھوک خریدی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دو ہفتہ قبل تک ٹماٹر کی قیمت میں جو اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا تھا وہ معمول کے مطابق رہا لیکن جیسے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا گیا اسی کے ساتھ ٹماٹر کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ شہر حیدرآباد میں ٹماٹر کی قیمتیں 70 روپئے تک جاسکتی ہیں۔محکمہ زراعت کے عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ہدایات موصول ہونے کے ساتھ ہی ٹماٹر کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے اور آئندہ ایک ہفتہ کے دوران قیمتوں پر کنٹرول کی کوشش کی جائے گی لیکن رعیتو بازار میں تجارت کرنے والے ترکاری فروشوں کا کہناہے کہ جاریہ ماہ کے اختتام تک ٹماٹر کی قیمتوں پر قابو پائے جانے کا امکان نہیں ہے۔ ٹماٹر شہر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں روزمرہ کے استعمال کی ترکاری ہونے کے سبب اس کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کو شدت کے ساتھ محسوس کیا جا رہاہے اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہاہے کہ ٹماٹر کی قیمتوں پر جلد قابو پایا جائے۔