ٹمریز میں طلبہ کو انگریزی تعلیم کے ساتھ اردو ، قرآن اور نماز پڑھنے کی آزادی : ہریش راؤ

,

   

حلال ، حرام ، حجاب کا تلنگانہ میں کوئی مسئلہ نہیں ، حیدرآباد کرفیو اور فسادات سے مکمل پاک
ملک میں سب سے زیادہ تلنگانہ کے ملازمین تنخواہیں حاصل کررہے ہیں ، تیسری مرتبہ بی آر ایس کامیابی حاصل کرے گی

حیدرآباد ۔ 15 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : ریاستی وزیر فینانس و صحت ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں حلال ، حرام ، حجاب کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ تلنگانہ کے میناریٹی ریسیڈنشیل اسکولس میں نماز اور قرآن پڑھنے کی سہولت فراہم کرتے ہوئے ریاست میں گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ آج پریس کلب بشیر باغ میں ٹی یو ڈبلیو جے کے زیر اہتمام ’ صحافت سے ملاقات ‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں اقلیتوں کی جو ترقی ہوئی اس کی کانگریس کے 50 سالہ دور حکومت میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ ریاست میں پرامن ماحول ہے۔ ہندو مسلم کا کوئی جھگڑا نہیں ہے ۔ حیدرآباد کرفیو اور فسادات سے پاک ہوگیا ہے ۔ ٹمریز اسکولس میں انگریزی تعلیم کے ساتھ اردو اور قرآن پڑھنے کے ساتھ نماز پرھنے کی بھی سہولت ہے ۔ ریاست میں ہر طرف خوشحالی ہے ۔ تلنگانہ کی فلاحی اسکیمات ملک کے لیے مثالی ثابت ہورہی ہیں ۔ بی آر ایس حکومت کی جانب سے سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کیا جارہا ہے ۔ لا اینڈ آرڈر پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے ۔ بی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے ریاست کے عوام مطمئن ہیں ۔ بی آر ایس سے اقلیتوں کو دور کرنے کے لیے کانگریس پارٹی بی آر ایس پر بی جے پی سے خفیہ اتحاد کرنے کا جھوٹا الزام عائد کررہی ہے جس میں کچھ سچائی نہیں ہے جب کہ خود کانگریس پارٹی نے شیوسینا سے اتحاد کیا ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی تمام بلز کی کانگریس تائید کرتی ہے ۔ تلنگانہ میں معلق اسمبلی وجود میں آنے کے سوال کو مسترد کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ شکست کا اندازہ ہوجانے کے بعد کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے جھوٹی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں ۔ بی آر ایس بھاری اکثریت کے ساتھ تیسری مرتبہ حکومت تشکیل دے گی۔ تشکیل حکومت کے لیے بی آر ایس کو کسی بھی جماعت کی تائید حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ کے سی آر تیسری مرتبہ چیف منسٹر کا حلف لیتے ہوئے جنوبی ہند میں نئی تاریخ بنائیں گے ۔ ریاست میں مخالف حکومت لہر چلنے کی ہریش راؤ نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ تمام ارکان اسمبلی کو دوبارہ امیدوار بنانے پر عوام میں تھوڑی ناراضگی ضرور ہے ۔ مگر ارکان اسمبلی نے چند اچھے کام بھی کیے ہیں ۔ جس سے انہیں اور پارٹی دونوں کو فائدہ حاصل ہوگا ۔ ریاستی وزیر ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس کے انتخابی منشور کی کانگریس نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک ماڈل اور گجرات ماڈل تلنگانہ میں نہیں چلے گا۔ راہول گاندھی نے کرناٹک میں جاب کیلنڈر جاری کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے کے پہلے 100 دن میں 2 لاکھ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا جس پر آج تک کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ہے ۔ اب کرناٹک میں حجاب پر پابندی عائد کردی گئی ہے جس کی بی آر ایس سخت مذمت کرتی ہے ۔ گجرات میں صرف 600 روپئے پنشن دیا جارہا ہے جب کہ تلنگانہ میں بی آر ایس حکومت قائم ہوجانے کے بعد اسرا پنشن کی رقم بڑھ کر 5000 ہوجانے کا دعویٰ کیا ۔ تلنگانہ میں 24 گھنٹے برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کے تحت 13 لاکھ غریب لڑکیوں کی شادیاں کرائی گئی ہیں ۔ کسانوں کے بنک کھاتوں میں 72 ہزار کروڑ روپئے جمع کرائے گئے ہیں ۔ سرکاری محکموں میں دیڑھ لاکھ اور 24 لاکھ خانگی شعبوں میں ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں جس سے عوام پوری طرح مطمئن ہیں اور بی آر ایس پارٹی تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرے گی ۔ سرکاری ملازمین کی ناراضگی پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ سارے ملک میں تلنگانہ کے سرکاری ملازمین سب سے زیادہ تنخواہیں حاصل کررہے ہیں ۔ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پہلے پانچ سال تنخواہوں کی ادائیگی میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی تاہم نوٹ بندی اور کورونا کے باعث پہلی تاریخ تا 7 تاریخ کے درمیان تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں ۔ اتنے مسائل کے باوجود تمام فلاحی اسکیمات پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ کو مقروض بنانے کا الزام سراسر غلط ہے ۔ آر بی آئی نے جو فہرست جاری کی ہے اس میں نیچے سے تلنگانہ کا پانچواں نمبر ہے ۔ یعنی ہم سے ملک کی 23 ریاستوں نے زیادہ قرض حاصل کیا ہے ۔ ایف آر بی ایم کی حد میں رہتے ہوئے ہم قرض حاصل کررہے ہیں ۔ ن