صرف دس ہزار روپئے فی ایکر کرایہ مقرر ، حکومت کے اقدام کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔29۔اکٹوبر۔ حکومت نے ٹمریز کو وقف اراضیات کی حوالگی کے غیر قانونی احکام جاری کئے ہیں ۔ حکومت تلنگانہ نے ٹمریز کو جو موقوفہ اراضیات حوالہ کی ہیں ان اراضیات کے سلسلہ میں جاری کئے جانے والے احکامات کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے اور مقدمہ کی یکسوئی تک ان اراضیات پر ٹمریز کوکسی بھی طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہ دی جائے ۔تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی درخواست میں معزز عدالت سے درخواست گذار نے بتایا کہ ٹمریز کو وقف جائیدادوں کی حوالگی غیر قانونی ہے اور وقف جائیدادوں کو جس انداز میں لوٹا جا رہاہے اس پر روک لگانے کے لئے فوری طور پر احکامات جاری کئے جانے چاہئے ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی رٹ درخواست نمبر 32473/2025 کی سماعت کے بعد جسٹس ٹی مادھوی دیوی نے درخواست کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرنے کے احکام دیئے ہیں اور 11 نومبر کو اس مقدمہ کی دوبارہ سماعت رکھی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ٹمریز کو اقامتی اسکولوں کی تعمیر کے سلسلہ میں ریاست کے مختلف مقامات بشمول حیدرآباد میں کروڑہا روپئے مالیاتی 60 ایکڑ سے زائد موقوفہ اراضیات طویل مدتی لیز پر دیئے جانے کے احکامات کے خلاف دائر کی گی اس رٹ درخواست میں کہاگیا ہے کہ حکومت تلنگانہ اور وقف بورڈ نے ان اراضیات کی حوالگی کے سلسلہ میں غیر قانونی اقدامات کئے ہیں ۔ درخواست گذار نے عدالت میں دائر کردہ حلف نامہ میں وقف قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کروڑہا روپئے مالیاتی اراضیات کو ریاستی حکومت کی جانب سے ٹمریز کے حوالہ کرنے کے لئے وقف قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 30 سال کے لئے جو اراضیات ٹمریز کے حوالہ کی گئی ہیں ان میں ائیر پورٹ کے قریب سروے نمبر 90 میں 16ایکڑ23 گنٹے اراضی ٹمریز کے حوالہ کی گئی ہے جبکہ سروے نمبر 99/1 میں 20ایکڑ اراضی جو کروڑہا روپئے مالیت کی ہے معمولی کرایہ پر حوالہ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اسی طرح سروے نمبر 92او ر91 میں 10 ایکڑ اراضی شمس آباد میں ٹمریز کے حوالہ کی جاچکی ہے اور سروے نمبر 548 میں 10ایکڑ موقوفہ اراضی معمولی کرایہ پر ٹمریز کے حوالہ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔یہ تمام اراضیات مامڑپلی موضع ‘ بالاپور منڈل ‘ ضلع رنگاریڈی میں موجود ہیں جو کہ ’’ٹمریز ‘‘ کے حوالہ کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ شہر حیدرآباد میں مسجد پھول باغ لال دروازہ کے تحت موجود 2000مربع گز موقوفہ اراضی ‘ جامع مسجد کلثوم پورہ کے تحت موجود 2000 مربع گز موقوفہ اراضی ‘ مسجد قطب شاہی کے تحت موجود 1000 مربع گز موقوفہ اراضی کے علاوہ ٹولی مسجد کاروان کے تحت موجود 1000 مربع گز موقوفہ اراضی کو ’ٹمریز‘ کے حوالہ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ان اراضیات کی حوالگی کے سلسلہ میں کوئی عوامی ہراج ‘ یا شفافیت اختیار نہیں کی گئی جو کہ وقف قوانین 5,6,7کی صریح خلاف ورزی ہے جو کہ جائیداد کو کریہ یا لیز پر دینے کے قوانین کے متعلق ہے۔واضح رہے کہ ان موقوفہ جائیدادوں کی ’ٹمریز ‘ کو حوالگی کے لئے ریاستی حکومت کی ہدایت پر تلنگانہ وقف بورڈ نے 10ہزار روپئے فی ایکڑ کرایہ مقرر کیاہے اور اس طرح شہر حیدرآباد ورنگاریڈی کے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع میں بھی کئی ایکڑ موقوفہ اراضی ’ٹمریز‘ کے اسکولوں کی تعمیر کے لئے حوالہ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ جلد ہی ان احکامات کو بھی عدالت میں چیالنج کیا جائے گا۔جسٹس ٹی مادھوی دیوی نے آج داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے ساتھ ہی تمام فریقین بالخصوص ’ٹمریز‘ انتظامیہ کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔درخواست گذار نے سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود ‘ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ ‘ چیف اکزیکٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ ‘ کے علاوہ سیکریٹری ٹمریز کو پارٹی بناتے ہوئے درخواست داخل کی ہے۔