فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے غیر معمولی جذبہ کا مظاہرہ، ہندوؤں کا اظہار تشکر
ٹمکور 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک کے ضلع ٹمکور میں مسلم نوجوانوں نے فرقہ وارانہ رواداری اور ہم آہنگی کے جذبہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک غریب ہندو کی نعش کو آخری رسومات کے لئے منتقل کیا۔ تفصیلات کے مطابق مسلم نوجوانوں نے کورونا وائرس کنٹینمنٹ زون اور لاک ڈاؤن کے سبب ناکہ بندی کئے گئے علاقہ ٹمکور میں ایک غریب ہندو خاندان کے گھر پہونچ گئے جب مقامی ٹیلر کی موت کی اطلاع موصول ہوئی۔ یہ 60 سالہ شخص نارائنا جو جسمانی طور پر معذور ہونے کے باوجود ٹیلر تھا اور پیرانہ سالی سے لاحق عارضہ کے نتیجہ میں فوت ہوگیا۔ اُس کا گھر کے ایچ بی کالونی پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع ہے جہاں پہلے ہی ملک گیر لاک ڈاؤن کے سبب سختی تھی اور پڑوس میں دو افراد کورونا پازیٹیو پائے جانے کے بعد کنٹینمنٹ زون قائم کرتے ہوئے مزید سختی پیدا کردی گئی تھی۔ نارائن راؤ کے انتقال کی اطلاع ملتے ہی محمد خالد اپنے ایک دوست پونیت کمار راؤ کے گھر پہونچے اور دُکھ کی اِس گھڑی میں اپنے ساتھی 10 کورونا واریئرس کو بھی طلب کیا۔ ان کے کہنے پر عمران، ٹیپو، شیرو، شاہ رُخ، توفیق، منصور بھی آگئے جن کے ساتھ محمد خالد وہاں سے نارائن راؤ کے گھر پہونچ گئے۔ گھر میں موجود افراد سے کہاکہ متوفی نارائن راؤ کی میت کو وہ شمشان پہونچائیں گے اور آخری رسومات کے تمام انتظامات کریں گے۔ محمد خالد نے انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ سے کہاکہ ’میرے دوست عمران نے نارائن راؤ کے خاندان کو 5000 روپئے نقد بطور امداد دی۔ ہم ہی نے ارتھی کو گھر سے گاڑی تک پہونچایا۔ متوفی نارائنا کا چھوٹا بھائی اور اس کے دو بیٹے (نارائنا کے بھتیجے) اس کالونی میں رہتے ہیں لیکن وباء سے متاثر ہونے کے خوف سے آخری رسومات میں حصہ لینے سے انکار کررہے تھے۔ محمد خالد نے کہاکہ ’حالانکہ ہم بار بار اُنھیں باور کروارہے تھے کہ نارائن راؤ کے کورونا معائنے چار دن قبل منفی پائے گئے تھے اس کے باوجود ان کے خاندان سے کوئی نہیں آیا تھا‘۔ پونیت کمار نے ’دی ہندو‘ سے کہاکہ ’میرے مسلمان بھائیوں نے ہماری مدد کی۔ ہماری بھی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی تھی۔ اُنھوں نے تمام ضروری انتظامات کرنے کا یقین دلایا تھا اور رات بھر ہمارے ساتھ رہے۔