مقبولیت کی جانچ پر اسداویسی، بدرالدین اجمل اور اعظم خان پیچھے
حیدرآباد۔24۔جون(سیاست نیوز) ٹوئیٹر پر مقبولیت کی جنگ میں کانگریس رکن پارلیمنٹ و معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی نے بیرسٹراسدالدین اویسی ‘ بدرالدین اجمل اور اعظم خان کو پیچھے چھوڑ دیا۔ رکن راجیہ سبھا کانگریس کو ٹوئیٹر پر 21ہزار347 ووٹ میں 68.9فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ اسد الدین اویسی کو محض 27.8 ووٹ حاصل ہوئے اسی طرح اعظم خان کو 1.9اور بدر الدین اجمل کو 1.5 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ۔ @ZuberMediaکے نام سے چلائے جانے والے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر کروائی گئی مقبولیت کی جانچ کی اس رائے دہی میں ٹوئیٹرپر موجود افراد سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ ہندستانی مسلم سیاستدانوں میں ان کی پسندیدہ شخصیت کون ہیں؟ اس سوال کے ساتھ 4 سیاسی قائدین کے نام دیئے گئے تھے جن میں بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآباد‘ مولانا بدرالدین اجمل ‘ شاعر عمران پرتاپ گڑھی اور اعظم خان کے نام شامل تھے ۔ٹوئیٹر پر موجود فالوورس کی تعداد کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو بیرسٹر اسدالدین اویسی کے 2.5 ملین فالوورس ہیں جبکہ عمران پرتاپ گڑھی کے فالوورس کی تعداد 1.3ملین ہے لیکن اس کے باوجود عمران پرتاپ گڑھی کو زبیر میمن کی جانب سے چلائے گئے پول میں پسندیدہ مسلم سیاسی قائد کا موقف حاصل ہوا ہے۔جناب عبداللہ سہیل نے ٹوئیٹر پر ہونے والی اس رائے دہی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کے بعد ملک میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور نفرت کی سیاست کو لوگ پسند نہیں کر رہے ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ عمارن پرتاپ گڑھی کو حاصل ہونے والی مقبولیت اور انہیں پسندیدہ مسلم سیاسی قائد کے طور پر قبول کئے جانے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملک بھر میں مسلمان کانگریس کو قبول کر رہے ہیں اور وہ اب کانگریس کے ساتھ مل کر فرقہ پرستی کا خاتمہ کرنے کے حق میں ہیں۔