دماغی صحت کو بھی نقصان کا اندیشہ، تحقیق میں انکشاف
حیدرآباد۔ ٹوتھ پیسٹ میں نمک‘ کوئلہ اور دیگر دانت صاف کرنے والی اشیاء کے بارے میں تو آپ نے سنا ہی ہوگا لیکن اب محققین کی تحقیق نے ٹوتھ پیسٹ ‘ صابن ‘ڈیوڈرنٹ کے علاوہ دیگر خوشبو والی اشیاء میں پائے جانے والے کیمیکل مادہ کو انسانی صحت کے لئے نقصاندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روزانہ کے استعمال کی ان اشیاء میں ان کی مدت استعمال میں اضافہ کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت شامل کئے جانے والے کیمیکل سے انسان کی دماغی صحت کو نقصان پہنچتا ہے ۔ ان اشیاء میں ٹرائیکلوسان نامی مادہ کے استعمال پر ہندستان میں کوئی روک اور پابندی نہ ہونے کے سبب تمام کمپنیوں کی جانب سے اس کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ انسانوں کیلئے نقصاندہ ہے اور مسلسل استعمال سے اعصابی نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔ انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی جانب سے کی گئی تحقیق جو کہ سرکردہ سائنس جرنل کوموسفور آف دی یونائیٹڈ کنگڈم میں شائع کی گئی ہے جس میں محققین کی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر انامیکا بھارگوا نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں پائے جانے والے اس کیمیکل ٹرائیکلوسان کے مسلسل استعمال کے مضر اثرات رونما ہوتے ہیں اور جن کمپنیوں کو اس مادہ کے استعمال کی اجازت حاصل ہے وہ مقدار سے کئی گنا زیادہ اس کا استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 1960میں ادویات کے علاوہ دیگر اشیاء بالخصوص خورد و نوش میں اس مادہ کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو کہ دراصل کسی بھی شئے کی مدت استعمال میں اضافہ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ محققین نے بتایا کہ ذہنی تناؤ اور دیگر مسائل کو دیکھتے ہوئے اس تحقیق کا فیصلہ کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ مادہ کے سبب اعصابی نظام شدید متاثر ہونے لگا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرائیکولوسان نامی اس کیمیکل کے سبب انسانی اعصابی نظام متاثر ہونے لگا ہے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس کیمیکل کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جاچکی ہے لیکن ٹوتھ پیسٹ ‘ صابن اور ڈیوڈرینٹ جو کہ بیرونی استعمال کی اشیاء تصور کی جاتی ہیں اسی لئے ان میں اس کا استعمال اب بھی کیا جاتا ہے لیکن اب اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے ان اشیاء میں اس کیمیکل کے استعمال کو روکنے کے اقدامات کا جائزہ لینا چاہئے اور عوام کو بھی اپنے ٹوتھ پیسٹ ‘ صابن اور ڈیوڈرینٹ کے استعمال کے معاملہ میں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
