ٹولی چوکی تا حکیم پیٹ فٹ پاتھ قبضہ جات برخاست

   

منتخبہ نمائندوں کی رکاوٹ کی کوشش ، آئندہ ہفتہ سات گنبد روڈ پر کارروائی
حیدرآباد۔ ٹولی چوکی سے حکیم پیٹ جانے والی سڑک پر فٹ پاتھ پر موجود قبضہ جات کو مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کے عہدیدارو ںنے پولیس کی نگرانی میں برخواست کرواتے ہوئے تاجرین کو انتباہ دیا کہ اگر دوبارہ ان مقامات پر کاروبار کے لئے قبضہ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں مزید سخت کاروائی کی جائے گی اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات کے اندراج سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ ٹولی چوکی سے حکیم پیٹ سڑک پر جی ایچ ایم سی کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی کے دوران مقامی منتخبہ عوامی نمائندہ نے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جس پر عہدیدارو ں نے بتایا کہ ٹولی چوکی کے علاقہ کے علاوہ حکیم پیٹ اور اطراف و اکناف کی کالونیوں میں رہنے والے عوام کی مسلسل شکایات موصول ہونے کے بعد ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اس کاروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ بلدی عہدیدارو ںنے بتایاکہ حکیم پیٹ ٹولی چوکی میں کی گئی اس کاروائی کے دوران 100 سے زائد قبضہ جات کو برخواست کیا گیا ہے اور آئندہ ہفتہ سات گنبد سڑک پر موجود فٹ پاتھ پر کئے گئے قبضہ جات کو برخواست کرنے کے اقدامات کو یقینی بنایاجائے گا۔ جی ایچ ایم سی کے ذمہ دارو ںنے بتایا کہ فٹ پاتھ پر موجود قبضہ جات کو برخواست کروانے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کئے جانے کی مقامی عوام کی جانب سے شدید مخالفت کی جار ہی ہے اورکہا جا رہا ہے کہ فٹ پاتھ پر قبضوں کے ساتھ ساتھ سڑک پر بھی قبضہ کیا جا رہاہے اور اس کے بعد ٹھیلہ بنڈی رانوں کی موجودگی کے سبب ہر وقت ٹریفک جام رہنے لگی ہے اسی لئے مقامی عوام کی جانب سے متعدد شکایات کے بعد جی ایچ ایم سی نے پولیس کی نگرانی میں اس کاروائی کو انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ عوامی شکایات میں اس بات کی بھی صراحت کی گئی ہے کہ ٹولی چوکی سے حکیم پیٹ کی یہ مصروف ترین سڑک جوبلی ہلز اور دیگر کئی علاقوں تک جاتی ہے اور اطراف میں کئی ہاسپٹلس ہونے کے سبب مریضوں کو ایمبولنس اس راستہ سے لے جاتے ہیں لیکن فٹ پاتھ اور سڑکوں پر موجود قبضہ جات کے سبب کئی مرتبہ ایمرجنسی گاڑیاں بالخصوص ایمبولنس اس سڑک پر ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں اور انہیں نکلنے کیلئے کوئی اور راستہ نہیں ہوتا اسی لئے فٹ پاتھ تاجرین کے نام پر کئے جانے والے قبضہ جات کو برخواست کرواتے ہوئے شہریوں کو ٹریفک سے پاک سڑ ک کی فراہمی یقینی بنانے کی درخواست کی گئی تھی۔