راشن کارڈ، مکان اور پنشن کی منظوری، ملازمت اور 10 لاکھ روپئے کی تاحال عدم اجرائی
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ٹولی چوکی علاقہ میں محمد سلیم نامی معذور شخص سے جو وعدے کئے تھے اُن میں بعض اہم وعدوں کی تکمیل ابھی باقی ہے۔ محمد سلیم نے 27 فروری کو چیف منسٹر سے اسوقت ملاقات کی کوشش کی تھی جب وہ ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس ہورہے تھے۔ ایک معذور شخص کو سڑک پر کچھ کاغذات کے ساتھ دیکھ کر کے سی آر نے اپنی گاڑی روک دی تھی اور سلیم سے ملاقات کی۔ سلیم نے اپنی غربت اور معذوری کے سبب حکومت سے امداد کی خواہش کی جس پر چیف منسٹر نے فوری کلکٹر حیدرآباد کو طلب کرتے ہوئے سلیم کیلئے بعض اقدامات کی ہدایت دی۔ راشن کارڈ، ماہانہ پنشن اور ڈبل بیڈ روم مکان الاٹمنٹ کا وعدہ پورا ہوگیا لیکن فرزند کو ملازمت اور 10 لاکھ روپئے کی امداد کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا۔ سلیم نے بتایا کہ چیف منسٹر سے ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے مسائل پیش کئے تھے اور وہ کے سی آر کو انسان دوست چیف منسٹر تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکسیڈنٹ بیمہ کے طور پر 10 لاکھ روپئے کے اعلان کے بعد سے مکاندار انہیں کرایہ کیلئے تنگ کررہا ہے۔ گھر کا ماہانہ کرایہ 8000 روپئے ہے اور وہ اس موقف میں نہیں کہ کرایہ ادا کرسکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیف منسٹر 15 اگسٹ کو 10 لاکھ کے وعدے کی تکمیل کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر نے مکان کے الاٹمنٹ کا جو مکتوب روانہ کیا تھا وہ کسی طرح غائب ہوگیا ہے جبکہ کلکٹر کی جانب سے مکان کی منظوری کا لیٹر ان کے پاس موجود ہے۔ سلیم نے چیف منسٹر سے اپیل کی کہ وہ 15 اگسٹ کو اُن کے مکان کے چابی کے ساتھ ساتھ 10 لاکھ کے وعدے کو پورا کریں۔ لاک ڈاؤن میں وہ کافی پریشان رہے اور حکومت کی جانب سے 10 لاکھ کی امداد کی صورت میں وہ ٹی آر ایس پارٹی کا ایک دفتر قائم کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ سلیم نے کہا کہ چیف منسٹر کے اعلانات کے بعد لوگ انہیں دولتمند تصور کررہے ہیں حالانکہ وہ ابھی بھی معاشی مسائل سے پریشان ہیں۔ سلیم نے امید ظاہر کی کہ چیف منسٹر 15 اگسٹ تک باقی وعدوں کی تکمیل کردیں گے۔